Writer Umme Hania

Welcome to the official YouTube channel of Writer Umme Hania, a place where stories breathe life, emotions speak louder than words, and every episode takes you on a journey you’ll never forget.
This is not just a reading channel — it's a personal diary of imagination, where the writer Umme Hania shares her original Urdu novels,
📚 Self-written Urdu fiction
💫 Emotional, spiritual & meaningful storytelling
🖊️ Characters that inspire, challenge, and reflect reality
🌸 Peaceful screen reading experience — no background music
📖 Stories that blend love, purpose, struggles & hope
🌙 A voice for truth, identity, and healing through fiction
🔔 Don’t forget to Subscribe, Like, and Share to support original Urdu writing

#UrduWriter #EmotionalStories #IslamicFiction #PeacefulReading #ScreenReading #NoVoiceover #SelfWritten #SpiritualJourney #HeartTouchingTales #UrduLiterature #PakistaniFiction
#motivationalnovels #Urdunovels #romanticnovels
For further quries Email address
crana757@gmail.com


Writer Umme Hania

آپ رمضان میں سب سے پہلے کیا بہتر کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟ 📿

10 hours ago | [YT] | 2

Writer Umme Hania

وہ میری بہن نہیں ہے ممی۔۔۔ نہیں ہے وہ میری بہن ۔۔ شدت غم اور غیض و غضب سے زوہان نے سینٹرل میز پر زوردار ٹانگ رسید کی تو وہ دور تک لڑھکتا چلا گیا۔۔

ایمان  جی جان سے کپکپا کر رہ گی۔۔ بیٹے کی ایسی حالت ایمان نے زندگی میں پہلی مرتبہ دیکھی۔۔۔ اسکی آنکھیں نم تھیں اور آواز بارہا بھرا رہی تھی ۔ اسنے اپنے بیٹے کو یوں اس قدر ٹوٹا ہوا زندگی میں پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔۔

زونی میری جان میری بات تو سنو۔۔۔ ایمان نے آگے بڑھتے اسے سنبھالنا چاہا۔۔۔ ممی وہ ایسا کیسے کر سکتی ہے یار۔۔۔ کوئی۔۔۔ مطلب کسی چیز کا لحاظ نہیں رہا اسے ممی۔۔۔

ممی وہ ۔۔ بے یقینی سے اسکے الفاظ ٹوٹ رہے تھے۔۔۔ ممی ان ہاتھوں سے پالا ہے میں نے اسے۔۔ یار اسے انگلی تھام کر چلنا سکھایا ممی۔۔۔ وہ اپنے کپکپاتے ہاتھ سامنے کئے دل برداشتہ ساتھا۔۔۔کہاں کمی رہ گئی تھی ممی۔۔۔ زونی میری جان کوئی غلط فہمی ۔ ایمان نے اسکے چہرے پر ہاتھ پھیرتے اسکا رخ اپنی جانب کیا۔۔

کوئی غلط فہمی نہیں ممی۔۔۔ کوئی غلط فہمی نہیں۔۔۔

ممی اسنے بھرے مجمعے میں ہماری عزت دو کوڑی کی کر کے رکھ دی۔۔۔ ممی وہ سب کے سامنے کہتی ہے وہ ہمارے ساتھ نہیں جائے گی۔۔ اسنے یہ نکاح اپنی رضا مندی سے کیا ہے۔۔ غم و غصّے اور بےبسی سے وہ چٹخ چٹخ گیا۔۔ ایمان نے اسے زبردستی کھینچ کر صوفے پر بیٹھایا۔۔۔

میرا دل نہیں مان رہا زونی۔۔۔ وہ ایسی نہیں۔۔۔۔۔

مت اس کی سائیڈ لیں ممی۔۔مت اسکی سائیڈ لیں۔۔۔ ورنہ میں خود کو شوٹ کر ڈالوں گا۔۔۔ وہ ماں کے ہاتھ جھٹکتا طیش سے صوفے سے اٹھنے کے در پر تھا جب ایمان نے سسکتے ہوئے اسے واپس کھینچا اور اسکا سر شانے سے ٹکراتی اسکے بالوں کا بوسہ لے کر رہ گئ۔۔۔ ماں کے شانے سے لگا وہ اونچا لمبا بھرہور مرد اس کاری وار کی چوٹ نا سہتا سسک اٹھا۔۔۔

کہاں کمی رہ گئی تھی ممی ہمارے پیار میں۔۔۔ کے وہ ہمارے دشمنوں سے ہی جا ملی۔۔۔ اسے زرا خیال نا رہا۔۔ زرا احساس نا ہوا ۔۔۔۔

زونی بھائی۔۔۔ زونی بھا۔۔۔

دفعتاً اسے گیراج سے اینجل کی آواز آئی تو وہ کرنٹ کھا کر ماں سے الگ ہوا۔۔۔ اینجل کی آواز سن کر ایمان کا دل بھی زور سے دھڑکا وہ تیزی سے صوفے سے اٹھی تب تک حال سے بے حال اینجل لاوئنج کے دروازے تک پہنچ آئی تھی۔۔۔

وہیں رک جاؤ اینجل وقاص درانی۔۔ وہیں رک جاو۔۔۔ زوہان ایک دم چلاتا ہوا اسکی جانب بڑھا۔۔۔ اینجل سہم کر وہیں رک گی۔۔ ایک قدم آگے مت بڑھا ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔

زونی اسکی بات تو سنو بیٹا وہ بہن ہے۔۔۔ ایمان تڑپ کر اسکی جانب بڑھی۔۔۔

وہیں رک جائیں ممی۔۔۔ اگر آپ نے ایک قدم بھی اس خود غرض لڑکی کی جانب بڑھایا تو خدا کی قسم خود کو ختم کر ڈالوں گا۔۔۔

زونی بھائی ایم سوری۔۔۔ مجھے معاف کر دیں بھائی۔۔۔ مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگی۔۔۔ زونی بھائی۔۔۔

نام مت لو میرا اپنی زبان سے لڑکی۔۔ اسکی آنکھوں میں خون اترا ہوا  تھا۔۔۔

ثابت کیا ہے تم نے اینجل کے میری ماں کی تربیت ہار گی۔۔۔ اینجل نے لب بھینچے شدت سے سر نفی میں ہلایا۔۔۔

اور پروشہ ظفر کا خون جیت گیا۔۔۔ اس نے بھی یونہی میرے باپ کو چیٹ کیا تھا۔۔۔ اور تم بھی اپنے سبھی رشتوں کو دغا دے گئ۔۔۔رسوا کر گئ۔۔ ایمان نے کرب سے آنکھیں میچتے سر نفی میں ہلایا۔۔

دفعہ ہو جاؤ یہاں سے۔۔۔

نہیں زونی بھائی۔۔۔ وہ آگے بڑھی جب ٹھوکر لگنے پر بے طرح لڑکھڑائی۔۔

اینجل ایمان تڑپ کر اسکی جانب لپکی جب دو مضبوط ہاتھوں نے اسے سمبھالا۔۔۔

اینجل نے پلٹ کر دیکھا اور اپنے پیچھے وقاص درانی کو دیکھ کر وہ جی جان سے کپکپا اٹھی۔۔ ابھی تو اسکے گھر والوں نے اسے قبول نا کیا تھا کجا کے وقاص بھی آگیا تھا۔۔ اسے اس وقت یہاں نہیں آنا چاہیے تھا ۔

تم گھٹیا انسان ۔۔۔ تمہاری جرات کیسے ہوئی میرے گھر میں قدم بھی رکھنے کی۔۔

زوہان چیل کی سی تیزی سے اسکی جانب لپکا اور اسکے چہرے پر ایک زوردار گھونسا رسید کیا۔۔۔ نہیں زونی۔۔ نہیں میری جان۔۔ ایمان تڑپ کر ان دونوں کے درمیان حائل ہوئی۔۔۔

میں یہاں اپنی بیوی کو لینے آیا ہوں۔۔ وہ ہونٹ کے کنارے سے خون صاف کرتا سیدھا ہوا۔۔ اینجل کے سامنے وہ اسکے بھائی سے دست دراز نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔

تم ایسے نہیں جاؤ گے یہاں سے۔۔۔ غم و غصّے سے پاگل ہوتا زوہاں ماں کو پیچھے ہٹاتا اپنے کمرے کی جانب بڑھا۔۔۔ کسی انہونی کے خدشے سے ایمان کا دل بے طرح لرزا۔۔۔

اپنی بیوی کو لو اور دفعہ ہو جاؤ یہاں سے۔۔۔ سارے واقعہ سے کٹا بیٹھا شکستہ خیز سا شامیر شدت ضبط سے سرخ نگاہیں اٹھاتا غرایا تو گویا اسکے اس اجنبی رویے پر اینجل کو اپنی روح فنا ہوتی محسوس ہوئی۔۔

ڈیڈ میری بات سنیں۔۔۔ اس سے پہلے کے کرلاتی ہوئی اینجل باپ کی جانب بڑھتی زوہان پسٹل لوڈ کرتا کمرے سے نکلا۔۔

زوہاننن۔۔ نہیں میری جان۔۔۔ ایمان تڑپ کی چیختی ہوئی اسکی جناب لپکی۔۔۔ اسکا بیٹا جذباتی تھا بے حد جذباتی۔۔۔ اسکا دل ہولنے لگا۔۔۔

بیٹے کو دیکھ تب سے ساکت کسی بت کی مانند بیٹھے شامیر کے جسم میں بھی جنبش ہوئی۔۔۔ زوہان نے طیش سے ماں کو پیچھے ہٹاتے وقاص کا نشانہ لیتے فائر کھولا۔۔۔

نہیں زونیییییی۔۔ ایمان گھٹنوں کے بل گرتی چلا اٹھی۔۔۔

بروقت آگے بڑھتے شامیر نے اسکا پسٹل تھاما ہاتھ اوپر اٹھایا تو پسٹل سے نکلی گولی کا رخ اوپر کی جانب ہو گیا۔۔ گولی فانوس سے ٹکرائی اور یکدم ہی گولی کی آواز اور فانوس ٹوٹنے کے باعث پیدا ہونے والے شور سے پورے ماحول میں مزید ہیبت نامی بڑھ گئ۔۔دفعہ ہو جاؤ دونوں یہاں سے۔۔

وقاص درانی اسے لے کر نکل جاؤ یہاں سے۔۔۔ زوہان کو سنبھالتے چیخ چیخ کر بولتے شامیر کا گلہ بیٹھنے لگا۔۔

وقاص نے روتی کرلاتی حال سے بے حال ہوتی اینجل کو بازو کے کلاوے میں بھرا اور اپنے ساتھ گھسیٹتا باہر کی جانب بڑھا جبکہ اسکے ساتھ گھسیٹتی جاتی اینجل بلکتی ہوئی واپس باپ بھائی کے پاس جانے کو لپک رہی تھی۔۔۔

#جنت-سےـپہلے 

#از_ام_ہانیہ 


Ongoing) All episodes link till now

youtube.com/playlist?list=PLv...

1 day ago | [YT] | 10

Writer Umme Hania

رمضان کا سب سے خوبصورت لمحہ آپ کے لیے کیا ہوتا ہے؟ 🌙

1 day ago | [YT] | 2

Writer Umme Hania

مجھے بتاؤ اینجل تم یہاں کیسے آئی ہو۔۔ کچھ بھی مت چھپانا اپنے بھائی سے اینجل بتاؤ مجھے کے کیسے اس گھٹیا شخص نے تمہیں ٹریپ کیا ہے۔۔ ٹرسٹ می میں زندگی کے ہر مقام پر تمہارے ساتھ ہوں۔۔ ڈرو مت ۔ بتاؤ مجھے۔۔ سب بتاو۔۔۔ بہن کے آتے ہی زوہاں کو حوصلہ ہوا اور وہ اسکے آنسو صاف کرتا عزم سے گویا ہوا۔۔۔ وقاص درانی کا دل دھک دھک کر رہا تھا۔۔ وہ لب بھینچے دھڑکتے دل کے ساتھ اینجل کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ وہ کہیں کچھ غلط نا بول دے۔۔۔ اسکا بنا بنایا گیم الٹ نا جائے۔۔۔
بب۔۔ بھائی۔۔ انہوں نے۔۔ انہوں نے مجھے اغوا نہیں کیا۔۔ ہہ۔۔ ہم نے نکاح کیا ہے۔۔۔ زوہان کی آنکھوں میں بے یقینی ابھری اور اسکی اس پر گرفت کمزور پڑی۔۔۔
وقاص درانی نے کب کا رکا سانس خارج کیا۔۔۔
کیا بکواس کر رہی ہو اینجل۔۔ ہوش میں تو ہو تم۔۔۔ زوہان ایک دم دھار اٹھا۔۔ وہ جھکے سر سمیٹ آنسو بہاتی سسکتی رہی۔۔ ایم سوری بھائی۔۔ لیکن یہ نکاح میری رضا مندی سے ہوا ہے۔۔۔
ایم سوری۔۔ مجھے معاف کردیں بھائی۔۔ پلیز بھائی۔۔۔ زوہان کا فشار خون بلند ہونے لگا تھا۔۔۔ ماتھے کی رگ پھڑپھڑانے لگی تھی ۔۔۔تم اس وقت اپنے حواسوں میں نہیں ہو اینجل ۔۔۔ چلو میرے ساتھ گھر۔۔۔ گھر چل کر بات کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ شامیر نے آگے بڑھتے اسکا بازو کھینچا وہ کٹے ہوئے شہتر کی مانند اسکے ساتھ کھینچی۔۔۔
انسپیکٹر صاحب یہ لوگ زبردستی میری بیوی کو اپنے ساتھ نہیں لیجا سکتے۔۔ وقاص تڑپ کر انسپیکٹر کی جانب بڑھا۔۔۔
مسٹر شامیر پلیز رک جائیں۔۔ آپ یوں مسز درانی کو اپنے ساتھ نہیں لیجا سکتے۔۔۔
اینجل بولو انہیں کے تم ہمارے ساتھ جانا چاہتی ہو۔۔ اگر یہ نکاح ہو بھی گیا ہے تو کوئی بات نہیں ہم وہیں سے خلع کے لئے کیس دائر کر دیں گے۔۔۔
زوہان نے آگے بڑھتے اینجل کا رخ اپنی جانب کیا۔۔
اسنے ایک بے بس نگاہ وقاص پر ڈالی جو مسلسل آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے دیکھتا التجا کرتا سر نفی میں ہلا رہا تھا
۔وہ اشاروں ہی اشاروں میں اسے مسلسل اپنے بےبی کے بارے میں سوچنے کا بول رہا تھا۔۔۔
اینجل کا بدن کسی خزاں رسید پتے کی مانند کپکپا رہا تھا۔۔
نن۔۔ نہیں بھائی۔۔ میں آپکء ساتھ نہیں جاسکتی۔۔۔ سر جھکاتے وہ بامشکل بولی۔۔ زوہان نے اپنے ہاتھ اسکی بازو سے یوں ہٹائے جسے اسنے کسی اچھوت کو چھو لیا ہو۔۔۔وی مسلسل کئی لوگوں کی موجودگی میں باپ بھائی کی نفی کر رہی تھی ۔۔
زوہان کی آنکھوں میں بے یقینی ہی بے یقینی تھی۔۔ جانتی ہو کیا کہہ رہی ہو اینجل۔۔۔ اینجل مزید سسک اٹھی۔۔۔ اس سے پہلے کے بھائی کی جذباتی پر وہ بے وقوف پھر سے بنا بنایا کھیل خراب کر ڈالتی وقاص تیزی سے زوہان اور اینجل کے درمیان آیا یوں کے اینجل وقاص کی ڈھال کے پیچھے چھپ سی گئ۔۔ وقاص درانی عجیب چیلنجنگ نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ زوہان کو اپنا آپ دھواں بن کر ہوا میں تحلیل ہوتا محسوس ہوا۔۔۔ وہ زندگی کے بہت بڑے بڑے فیز میں ڈٹ گیا تھا۔۔ وہاں وہاں سے فتحیاب ٹھہرا تھا جہاں سے کسی نے توقع نہیں کی تھی۔۔ وہ آج تک کبھی نا ٹوٹا تھا۔۔۔آج زندگی کے اس مقام پر وہ بری طرح ہارا تھا کیونکہ کمر پر چھڑا مارنے والے کوئی اور نہیں دل کے سب زیادہ قریب ہستی تھی۔۔۔ آج بہن نے توڑا تھا تو وہ یوں ٹوٹا تھا کے شاید ہی کبھی آٹھ پاتا۔۔ اسنے وقاص کی اوٹ سے اس لڑکی کو دیکھا وہ لڑکی اسے بہت اجنبی لگی۔۔ گویا اس سے ملا ہی آج ہو۔۔ وہ لڑکی اسکی بہن ہو ہی نہیں سکتی تھی۔۔۔ شدت غم سے زوہان کی آنکھوں میں نمی سمٹنے لگی۔۔۔
بے یقینی سا وہ ساکت ہوتے دل کے ساتھ قدم قدم پیچھے لینے لگا۔۔۔۔ ارد گرد کھڑے سارے لوگ اسے اپنا مذاق اڑاتے محسوس ہوئے۔۔۔
اینجل شامیر۔۔ سوری۔۔ قدم پیچھے لیتا وہ تلخی سے ہسا۔۔۔ اینجل وقاص درانی۔۔۔ اینجل نے کرب زدہ نگاہیں اٹھاتے بھائی کو دیکھا۔۔ یکدم دل کو کھینچ سی لگی۔۔۔
اگر بہنیں تمہاری طرح کی ہوتی ہیں نا۔۔ اسکی آواز میں کرب ہی کرب تھا۔۔ تو میں دعا گو ہوں کے خدا کسی بھائی کو بہن نا دے۔۔۔ کرب سے کہتا وہ یکدم پلٹا اور تیزی سے خارجی دروازے کی جانب بڑھا۔۔۔ اسے سانس لینے میں بھی دشواری ہو رہی ہو۔۔۔ تیزی سے اس جانب بڑھتا وہ بڑی طرح لڑکھڑایا۔۔ وہ اونچا لمبا بھرہور مرد جو بری سے بری صورتحال میں بھی کبھی لڑکھڑایا نہیں تھی۔۔۔ آج ہر دوسرے قدم پر لڑکھڑا رہا تھا کیونکہ پیروں تلے سے زمین کھینچنے والی اپنی بہن تھی۔۔۔
شامیر بھی بیٹے کی حالت دیکھتا اسکے پیچھے ہی لپکا۔۔
بب۔۔ بھائی۔۔ نہیں بھائی۔۔۔ بھائی کی حالت پر اینجل بے طرح وقاص کا ہاتھ جھٹکتی اسکی جانب لپکی۔۔
اینجل میری بات سنو۔۔۔ وقاص نے جلدی سے آگے بڑھتے اسے باہر جانے سے روکا۔۔۔
آپ نے سنا وقاص بھائی نے کیا کہا۔۔ وہ حواس باختہ سی محسوس ہو رہی تھی۔۔ گویا زوہان کے الفاظ انی کی مانند دل میں پیوست ہوگئے ہوں۔۔۔مجھے جانا ہے انکے پاس۔۔ و۔۔ وہ مجھ سے ناراض۔۔۔ اسکے لفظ ٹوٹ رہے تھے۔۔۔
#جنت-سےـپہلے
#از_ام_ہانیہ
Ongoing) All episodes link till now
youtube.com/playlist?list=PLv...

5 days ago | [YT] | 7

Writer Umme Hania

یہ خناس کس نے تمہارے دماغ میں بھرا ایمان۔۔۔۔ اس لڑکی سے مجھے کس قدر چڑ ہے یہ بات باخوبی جاننے کے باوجود تم مجھے یہ بول رہی ہو۔۔۔ مجھے حیرت ہو رہی ہے تم پر۔۔۔ وہ واقعی حیرت زدہ تھا۔۔۔ دوستوں کے ساتھ جانے کی جلدی کہیں جاتی رہی تھی۔۔۔ اس بات نے اسے ڈسٹرب ہی اتنا کر دیا تھا کے اسے کچھ اور یاد ہی نا رہا۔۔۔ وہ کوفت سے بیٹھا ماتھا مسل رہا تھا۔۔۔
بھائی وہ اچھی لڑکی ہے۔۔۔اور۔۔۔۔
ایک منٹ ایمان۔۔۔۔ صرف ایک منٹ۔۔۔ میں نہیں جانتا کے وہ اچھی لڑکی ہے یا نہیں۔۔۔ کسی کو جج کرنے کا اختیار ہمارے پاس نہیں۔۔۔ لیکن اپنی زندگی کے بارے میں بہترین فیصلے لینے اور اپنی نسل کی بقا اور بہتری کے بارے میں سوچنا ہمارے اختیار میں ہے۔۔۔ وہ یکدم ہی بے حد سنجیدہ ہو اٹھا تھا۔۔
ایمان لب چباتے اسے دیکھنے لگی۔۔۔ میں آپکی بات سمجھ نہیں پا رہی بھائی۔۔۔
میری بات سنو تم۔۔۔ انسان کی اصلیت کیا ہے یہ جاننا ہے تو انسان اپنی تنہائی کو جانچ لے۔۔۔ کوئی بھی انسان اپنی تنہائی میں جیسا ہوتا ہے بس وہی اسکی حقیقت ہے۔۔۔
ایمان کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ گردن میں ایک گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوئی۔۔۔ دل میں ایک چور سا جاگا۔۔۔ اسنے تھوک نگلا۔۔۔۔۔
اور انسان کی تنہائی کیسی ہے یہ تو اس انسان کے سوا کوئی نہیں جان سکتا نا بھائی۔۔۔ انسان کی تنہائی پر بھی اللہ نے پردے ڈال کر اسے اپنے اور اپنے بندے تک محدود کر ڈالا۔۔۔ تو پھر آپ کسی کی تنہائی کے بارے میں کیسے بات کر سکتے ہیں۔۔ جب ہم جانتے ہی کچھ نہیں۔۔۔۔
ہاں ہم نہیں جانتے کسی کے تنہائی کے بارے میں۔۔۔ لیکن انسان کی سوچ اسکی شخصیت کی عکاسی ہوتی ہے۔۔۔ جیسی آپکی شخصیت ہوگی ویسی ہی آپکی سوچ ہو گی۔۔ اور جیسی آپکی سوچ ہوگی ویسے ہی خیالات کا اظہار آپ اپنے الفاظ کے ذریعے دوسروں کے سامنے کریں گے۔۔۔
سمجھ پا رہی ہو میری باتوں کو۔۔۔ یہ سب چیزیں انٹر لنک ہے۔۔۔ اسی لئے سمجھدار لوگ کسی سے محض ایک ملاقات میں ہی اس سے بات کر کے اسکی شخصیت کے بارے میں جان لیتے ہیں۔۔۔
اب یہاں سے میری باتوں کو اور ان سے اٹھتے نقاط کو اچھے سے سنو۔۔۔ غیر جانداری سے ریلیٹ کرو۔۔۔ اور حقائق کی بنیاد پر فیصلہ کرنا۔۔۔
حامد کے سنجیدہ انداز اور باتیں اسکا دل ہولا رہی تھیں۔۔۔ ناجانے وہ مزید اپنی باتوں کے ذریعے اس پر کیا کیا انکشاف کرنا چاہتا تھا۔۔۔
جی بھائی۔۔۔ وہ الڑت ہو اٹھی۔۔۔
تمہاری دوست کسی طرح کا لکھتی ہے اور کیا لکھتی ہے تم بہتر جانتی ہوگئ۔۔۔ بھائی کے کہنے پر یکدم ہی اسکا سر جھک گیا۔۔۔ شرمندگی نے بے طرح اسکا احاطہ کیا۔۔۔
وہ اپنے لفظوں کے ذریعے سے رائٹنگ کے نام پر فحاشی پھیلا رہی ہے۔۔۔ جسکا اسے احساس نہیں ہے اور نا ہی اسے پڑھنے والوں کو ہے۔۔ وہ لفظوں کے ذریعے سے اپنی سوچ کو قرطاس پر بکھیر رہی ہے۔۔۔ اور پڑھنے والے نامحسوس انداز میں اس زہر کو قطرہ قطرہ اپنے اندر جذب کر رہے ہیں۔۔۔ وہ گھٹنوں پر کہنیاں رکھتا آگے کو ہو بیٹھا۔۔۔
اب ہم یہاں یہ نہیں کہہ سکتے کے وہ محض انجوائے منٹ کے لئے لکھتی ہے اور پڑھنے والے محض انجوائے منٹ کے لئے پڑھتے ہیں۔۔۔
کیونکہ قدرت کا ایک اصول ہے۔۔۔ جو اندر جائے گا۔۔۔ وہی باہر آئے گا۔۔۔
دھیاں سے سننا۔۔۔۔ جنک فوڈ کھا کر کوئی صحتمند جسم حاصل نہیں کر سکتا۔۔۔ جو جنک کھائے گا وہ اوور ویٹ ہوگا۔۔۔۔
صبح سے شام تخریب کاری والی خبریں سن کر دماغ ویسے ہی کام کرے گا تب آپکے اندر سے پازیٹیویٹی نہیں نکلے گی نکل ہی نہیں سکتی۔۔۔
جیسے شیروں کی صحبت میں بیٹھو گے تو شیر بن جاو گئے۔۔ اور گیڈروں کی صحبت میں بیٹھو گے تو گیڈر ہی بنو گے۔۔۔ صحبت کا ماحول کا اور کانٹینٹ کنزیوم کرنے کا آپکی شخصیت پر اتنا گہرا اثر پڑتا ہے۔۔۔۔
اسی طرح پڑھنے کے نام پر فحش مواد گھٹیا رومانس اور چیپ بیڈ روم سینز پڑھ پڑھ کر چوبیس گھنٹے دماغ میں یہ ہی سب چلے گا۔۔۔ اس سے کیا ہوگا۔۔ یہ چیز آپکی کریٹو ایبیلتی کو ختم کر دے گی۔۔۔ آپکی سوچ اور آپکی دنیا محدود ہو کر محض اسی فحش مواد تک محصور ہو جائے گی۔۔۔ یہ زہر قطرہ قطرہ آپکی جسم میں جا کر نا صرف آپکو بلکہ آپکی آنے والی پوری نسل کو مفلوج کر دے گا۔۔۔ کیسے۔۔۔
جو لڑکی سالہا سال سے لکھ ہی فحش مواد رہی ہے۔۔۔ دن رات اسکے دماغ میں چل ہی یہ رہا ہے۔۔ ایک کے بعد دوسری قسط اور ایک ناول کے بعد دوسرا ناول اور تھیم سبکی فحاشی۔۔۔ اسکی دنیا محض انہی چیزوں کے گرد محصور ہو کر رہ گئ ہے۔۔۔۔
معذرت کیساتھ۔۔۔ بہت معذرت کے ساتھ ایمان۔۔۔ بہت بھاری بات کہنے جا رہا ہوں۔۔۔ وہ لڑکی کبھی بھی اپنی زندگی میں ایک اچھی ماں ثابت نہیں ہو سکتی۔۔۔
ڈھر ڈھر ڈھر۔۔۔ ایمان کو لگا پورے اپارٹمنٹ کی چھت اس پر آ گری ہو۔۔۔
انف بھائی۔۔۔ یہ اب بہت زیادہ ہو رہا ہے۔۔۔ وہ جھنجھلا اٹھی۔۔۔ جذباتیت کو پڑے رکھ کر میری بات سنو۔۔۔ اسے سمجھو۔۔۔
جس لڑکی کی زندگی ہی اس ایک فضول چیز کے گرد محصور ہو کر رہ گئ ہو جسنے ایک دنیا کی نوجوان نسل کے کچے اور شفاف ذہنوں کو غلط سوچ عطا کی انہیں غلط راستے پر چلنے کی راہ دکھائی۔۔۔۔ ترغیب دی۔۔۔۔ وہ اپنی اولاد کی تربیت کیا کرے گئ۔۔۔ اور بالفرض اگر اسکی بیٹیاں ہوئیں تو انہیں کیا سکھائے گی۔۔۔ جو آج ڈھرلے سے غلط پھیلا رہی ہے فحاشی کو پرموٹ کر رہی ہے کیا کل وہ اپنی بیٹیوں کے غلط کرنے کو غلط کہے گی۔۔۔
وہ بہت گہری باتیں تھیں جو ابھی تک ایمان کی عقل سمجھ سے پڑے تھیں جو اسکا بڑا بھائی اسے کھول کھول کر بتا رہا تھا۔۔۔ جنہیں سن کر ایمان کے کان سائیں سائیں کرنے لگے تھے۔۔۔
اور میری آج کی کہی ایک بات پلو سے گانٹھ باندھ لو ایمان۔۔۔ یہ دنیا مقافات عمل ہے ۔۔۔ ببول بو کر کبھی پھول نہیں اگائے جا سکتے۔۔۔۔ جو آگ آج ایک ٹرینڈ کے طور پر دوسروں کے گھروں کو انکے معصوم پھولوں کے کچے ذہنوں کو لگائی جا رہی ہے نا۔۔۔ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی۔۔۔ جب یہ ہی آگ کچھ سالوں بعد گھوم پھر کر آ کر اپنے ہی گھر کو لگے گی۔۔۔ جب اس آگ نے اپنے ہی دامن جلائے نا کلیجے پر ہاتھ تب پڑے گا۔۔۔ ابھی غلط راہ اختیار کرنے والی دوسروں کی بچیاں ہیں اور بدلے میں ڈالرز مل رہے ہیں کل جب غلط راہ اختیار کرنے والی اپنی بچی ہوئی نا دل تب دہلیں گے۔۔۔
اللہ نا کرے بھائی کیسی باتیں کر رہے ہیں۔۔۔ وہ بس کسی بھی پل رو دینے کو تیار تھی۔۔۔
حقیقت سے آشنا کروا رہا ہوں تمہیں ایمان۔۔۔ تاکے تم میری اور زخرف کی شادی کی سوچ ہی دماغ سے نکال دو۔۔۔
ہم نے ہوری دنیا کا ٹھیکا نہیں لے رکھا ایمان۔۔۔ نا ہی ہم دنیا کو راہ راست پر لا سکتے ہیں۔۔۔ نصیحت سب کے لئے ایک سی نہیں ہوتی۔۔۔
بہتری کا سفر ہمیشہ خود سے شروع کیا جاتا ہے۔۔۔ پھر وہ آپکی شخصیت سے پھوٹنے والی پازیٹیویٹی ہوتی ہے جو دوسروں کو آپکی جانب اٹریکٹ کرتی ہے۔۔۔
ہر انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے اور اپنی ذات کا سفر ہر کسی کو تنہا ہی کرنا پڑتا ہے۔۔۔
میں اپنا اپنی سوچ کا اپنی تنہائیوں کا اور اپنے اعمال کا ذمہ دار ہوں اور مجھے خود ہی ان سب پر کام کرنا ہے۔۔۔ ہر انسان اپنے بارے میں سوچتا ہے۔۔۔ اپنے بارے میں سوچنا اپنے لئے ایک بہتریں نیک اور پرہیزگار شریک حیات کو اپنی زندگی میں شامل کرنا اپنی آنے والی نسل کے بارے میں سوچنا یہ سب میرا کام ہے۔۔۔ میں ہر کسی کے معاملے میں ٹانگ نہیں اڑا سکتا۔۔۔
میں نہیں کہتا کے زخرف بری ہے۔۔۔ میں دعا گو ہوں کے اسے کوئی بہت بہتریں ہمسفر ملے لیکن وہ میں نہیں۔۔۔ میں خود کو اسکے لئے اہل ہی نہیں سمجھتا۔۔۔ میں سادا سا بندہ ہوں مجھے کوئی اپنے جیسی ہی چاہیے۔۔۔۔
بس تمہیں اور تمہارے ذریعے زخرف کو ایک ہی بات کہنا چاہوں گا کے اتنی مختصر سی زندگی ہے کیا پتہ کب واپسی کا بلاوا آ جائے۔۔۔ تو کیا جائے ہمارا اگر ہم اس مختصر سی زندگی کو اللہ اور اسکے حکموں پر سر جھکا کر گزار دیں۔۔۔
کیا جائے ہمارا جو ہم خود کو اللہ کی پسند کے مطابق ڈھالنے کی کوشیش شروع کردیں تو۔۔۔ اگر اللہ نے لکھنے کا ہنر دیا ہی ہے تو کیا جائے اگر اسکا بہتریں استعمال کرتے اسے اللہ کے احکام پھیلانے کے لئے استعمال کر لیا جائے تو۔۔ کیا جائے اگر اس ہنر کے ذریعے سے ٹوٹے دلوں کو انکے رب سے ملانے والی کڑی بن جایا جائے تو۔۔۔
کیا جائے اگر قلم کے استعمال سے کچے ذہنوں میں ایک غلط اٹریکش ڈالنے کی بجائے ان کچے ذہنوں اور دلوں پر اپنے لفظوں کے ذریعے سے اللہ کی محبت کو گوندھ دیا جائے۔۔۔
یہ سب سوچ کی بات ہوتی ہے ایمان۔۔۔ اور سارا کھیل ہی سوچ کا ہے۔۔۔ ہر کام کا آغاز ہوتا ہی سوچ سے ہے۔۔۔ اور یہ سارا فرق ہی سوچ کا ہے۔۔۔ اور یہ میری اور زخرف کی سوچوں میں پایا جانے والا تضاد ہی ہے جو ہم کبھی ایک نہیں ہو سکتے۔۔۔
اپنی بات مکمل کر کے وہ اسے سکتے میں بیٹھا چھوڑ واپس جا چکا تھا جبکہ میز پر پڑا ٹھنڈا انار کا جوس بنا چھوئے ہی گرم ہو گیا تھا جو ناجانے کب نوریں وہاں رکھ کر گئ تھی کے اپنی باتوں میں محو وہ دونوں ہی نوٹ نا کر پائے۔۔۔۔۔
#راہِ_حق
#ام_ہانیہ
#2nd_part_of_this_novel_is #Jannat_say_pehly ongoing a

Novel #راہِ_حق
#از_ام_ہانیہ
Complete novel link 🖇️👇
youtube.com/@ummehania786?si=-jT_BXCCxaWBC5Nb to

6 days ago | [YT] | 8

Writer Umme Hania

یہ وژن بورڈ میری پچھلے ایک گھنٹے کی محنت ہے جسے اے آئی کی مدد سے میں نے اپنے لئے بنایا ہے۔۔اور اسے بنا کر بہت سیٹیسفیکش محسوس ہو رہی ہے۔۔۔ہر تصویر اپنی ایک کہانی بیان کرتی ہے ۔۔ شاید آپ اس کہانی کو پہچان سکیں شاید نا پہچانیں ۔ ہوسکتا ہے یہ اپکے کام بھی آجائے اور اس سے آپکو اپنے وژن بورڈ کے لئے بھی کچھ مدد مل سکے۔۔۔ یقینا یہ ان لوگوں کے لئے ہے جو خواب دیکھتے ہیں اور انہیں پورا کرنے کی جستجو کرتے ہیں۔۔۔ اس وژن بورڈ کو بنا کر وہاں لگانا تھا جہاں دن میں سب سے زیادہ دفعہ آپکی نظر پڑ سکے لحاظہ اسے میں نے مینولی بنانے کی بجائے ڈیجیٹلی بنا کر اپنے موبائل کی ہوم اور لاک سکرین دونوں پر لگایا ہے۔۔۔ تاکے دن میں سینکڑوں مرتبہ اسے دیکھ سکوں ۔۔ جن لوگوں کو وژن بورڈ کے بارے میں نہیں پتہ وہ گوگل کر سکتے ہیں کے یہ کیا ہے اور کیسے ورک کرتا ہے۔۔ اور اگر آپ چاہتے ہیں کے میں اس ٹاپک کو ناول میں کور کروں تو آپ کمنٹ سیکشن میں بتا سکتے ہیں ۔۔اس میں صرف میرے کیرئیر گول اور فٹنس گول ہیں اس میں میرے ریلیجئس گولز شامل نہیں ہیں۔۔۔ اس پر ہم پھر کسی پوسٹ میں ڈیٹیل سے بات کریں گے۔۔۔ فائنل وژن بورڈ لاسٹ والا کلپ ہے۔۔۔
کیا آپ نے اپنا وژن بورڈ بنایا یا بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور آپکو یہ وژن بورڈ کیسا لگا ؟
youtube.com/shorts/pPBwy2LsJX...

1 week ago | [YT] | 16

Writer Umme Hania

#two_amaizaing_novels_in_1_frame
وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔۔۔ خان ولا کی درو دیوار دہل اٹھی تھیں۔۔۔
واجد خان کی آنکھوں میں خون اترا آیا تھا۔۔۔ آج انکے خاندان میں انکے اپنے خون نے بغاوت کر ڈالنے کی جرات کی تھی۔۔۔
آج انکی شان و شوکت رعب و دبدبے پر ایک کاری ضرب لگی تھی۔۔۔ آنکھوں میں اترے خون تلے سارے خونی رشتے کہیں دب گئے تھے۔۔۔
دو تلواریں ایک ساتھ ایک میان میں نہیں رہ سکتیں آج یا واجد خاں نہیں یا انکا سب سے چھوٹا باغی سپوٹ نہیں۔۔۔
گھر کے دالان میں ہی عدالت لگی تھی۔۔۔ امل لاوئنج کو جاتے لکڑی کے منقش دروازے کے پاس تھر تھر کانپتی اسی دروازے کے سہارے کھڑی تھی۔۔۔
آنکھیں ابل کر باہر آ رہی تھیں جبکہ دل بھی کسی خزان رسید پتے کی مانند کپکپا رہا تھا۔۔۔
ماں کی حالت سب سے بری تھی جو کسی بھی پل ڈھ جانے کے در پر ناجانے کیسے اپنے کپکپاتے وجود کو گھسیٹتی پھر رہی تھی۔۔۔
ممتاز۔۔۔ افضل ۔۔۔ اکبر کوئی میرے شامیر کو بلاوووو۔۔۔ فون کرو اسے ۔۔۔ فون کرو۔۔۔ وہ جلدی گھر پہنچے۔۔۔
وہ بہتی آنکھوں سمیت بے چینی سے یہاں وہاں پاگلوں کی طرح جاتیں ایک ایک ملازم کو پکار رہی تھیں۔۔۔
آج وہ ہوا تھا تو جو تاریخ میں کبھی نا ہوا تھا۔۔۔
باپ بیٹا آمنے سامنے تھے۔۔ منظر دیکھ دیکھ ماں کی روح کپکپا رہی تھی۔۔۔
بات پگڑی اور اونچے شملے پر آئی تو باپ کی آنکھیں اولاد پر سے پھر چکیں تھیں۔۔ اب سامنے بیٹا نہیں گستاخ کھڑا تھا جو آنکھوں میں بغاوت بھرے بنا ڈرے انکے سامنے تن کر کھڑا تھا جبکہ اسکے پیچھے سیاہ ہالے میں چھپا صورتحال سے خوفزدہ ایک نازک وجود ہولے ہولے لرز رہا تھا۔۔۔ جس سے آج ارحم خان نے سب سے بغاوت مول لیتے کورٹ میرج کر کے اسے اپنے نکاح میں لیا تھا۔۔۔
یہ خبر اس خاندان پر بجلی بن کر ٹوٹی تھی۔۔۔ مزید براں وہ بڑے ڈھرلے سے ڈھنکے کی چوٹ پر اسے گھر بھی لے آیا تھا۔۔۔
واجد خان تو کف اڑاتے مرنے مارنے پر تل آئے تھے ۔۔
بڑے دونوں بیٹے بیوی بچوں کے ساتھ فیملی ٹور پر گئے تھے۔۔۔ ایک شامیر ہی بچتا تھا جو آج کل گھر ہی تھا۔۔۔ ماں کی کل امیدوں کا محور اس وقت وہی تھا جو اس وقت کسی انہونی کو ہونے سے روک سکتا تھا۔۔۔
ورنہ اگر ایک کی آنکھوں میں خون اترا تھا تو دوسرے کے آنکھوں میں بغاوت تھی۔۔۔ ہواوں کا رخ بتلا رہا تھا کے آج یہ آشیانہ نہیں بچنے والا۔۔۔
ارحم خان پشت پر ہاتھ باندھے تن کر باپ کے سامنے کھڑا باغی نگاہیں انکی خون چھلکاتی نگاہوں میں گاڑھے ہوئے تھا۔۔۔
جس طرح خاموشی سے اس بدذات کو یہاں لے کر آئے ہو ارحم خان اسی خاموشی سے اسے طلاق دے کر فارغ کرڈالو ورنہ ۔۔۔
بات کرتے وقت تہذیب کا دامن تھامے رکھیں بابا جان۔۔۔ یہ لڑکی اب میری عزت ہے۔۔۔
ارحم خاننننن۔۔۔۔ بابا ڈھارتے ہوئے گرج کر اسکی جانب بڑھے جب ماں سرعت سے بیٹے اور باپ کے درمیان حائل ہوئیں۔۔۔
غصہ جب سر پر سوار ہو تو رشتے ناطے سب فراموش ہو جاتے ہیں۔۔ واجد خان نے بے طرح بازو جھٹک کر خود کو چھڑوایا ۔۔۔ نتیجتاً ماں کا بیلنس بگڑا اور وہ اونڈھے منہ زمین بوس ہوئیں۔۔۔
آہہہ۔۔۔ ایک دل خراش چیخ انکے حلق سے برآمد ہوئی۔۔۔ امل تڑپ کر انکی جانب لپکی۔۔۔ جبکہ ماں کی حالت پر ارحم کے قدموں تلے سے زمین کھسکی جب وہ بے آب مچھلی کی مانند تڑپ کر انکی جانب لپکا لیکن بابا نے اسے بیچ سے ہی دبوچ لیا۔۔۔
وہ پے در پے اسکے چہرے پر گھونسوں کی بارش کر رہے تھے۔۔۔ بے غیرت اولاد۔۔۔
آج یا تو نہیں یا میں نہیں۔۔۔ وہ اپنے آپے میں نا رہے تھے۔۔۔ جبکہ ارحم خاموشی سے انکے مکوں اور گھونسوں کی بارش سہتا انہیں پیچھے کر کے ماں کی جانب بڑھنا چاہ رہا تھا جنکی حالت بگڑ رہی تھی۔۔۔
دفعتاً بابا اسے غصے سے دور جھٹکتے گارڈ کی جانب بڑھے اور اسکے یونیفارم کے ساتھ لٹکے ریوالور کو جھپٹ کر اتارا۔۔۔
دفعتاً برق رفتاری سے شامیر کی گاڑی زن سے کار پورچ میں داخل ہوئی۔۔۔
آج میرا خون تمہارے سر ارحم۔۔۔ بابا نے کف اڑاتے ریوالور اپنی کنپٹی پر تانا۔۔۔
بابا۔۔۔ خان۔۔۔ امل اور ماں دہل اٹھیں۔۔۔ جبکہ اس بگڑتی صورتحال سے ارحم کے بھی ہاتھوں کے طوطے اڑے۔۔ سب سوچا تھا مگر یہ کہاں سوچا تھا۔۔ لمحوں میں اسکی رنگت فق پڑی۔۔
شامیر ایک جست میں گاڑی سے نکلا۔۔۔ اور بھاگتا ہوا باپ کی جانب لپکا۔۔
آج تمہیں چننا ہوگا ارحم۔۔۔ باپ یا یہ کم ذات معمولی لڑکی۔۔۔ وہ ڈھارے۔۔۔
بابا بی ریلیکس۔۔۔ ہم ۔۔۔ ہم بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔۔۔ شامیر نے انکے قریب آتے دونوں ہاتھ اٹھا کر تحمل سے کہتے انہیں ٹھنڈا کرنا چاہا۔۔۔
میرے تین گننے تک اگر تم نے اس لڑکی کو طلاق نا دی تو میرا خون تمہارے سر پر ہوگا۔۔ اس گستاخ کو میرے جنازے کو کندھا نہیں دینے دینا شامیر۔۔۔
وہ روبدارانہ آواز میں کہتے آخر میں بھرائی آواز میں شامیر سے مخاطب ہوئے۔۔۔ جو خود اس صورتحال سے بوکھلایا لگتا تھا۔۔۔ اسنے شدت سے نفی میں سر ہلایا۔۔۔
ایک۔۔۔واجد خان گرجے۔۔۔
شامیر حواس باختہ سا کبھی باپ تو کبھی چھوٹے بھائی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
ناجانے کہاں سے اتنی ہمت مجتمع کرتی ماں اٹھی اور ارحم کے قدموں میں گر پڑیں۔۔۔
تمہیں خدا کا واسطہ ارحم چھوڑ دو اس لڑکی کو۔۔۔ ماں نے کپکپاتے ہاتھوں سے ارحم کے پاوں پکڑے تو وہ جی جان سے لرز اٹھا۔۔۔ روح پاوں کے رستے جسم سے پرواز کرتی محسوس ہوئی۔۔۔ وہ بے دم ہونے لگا۔۔
آنکھیں صدمے سے پھٹ پڑیں جسم یوں کپکپایا جیسے وہ ابھی زمین بوس ہو جائے گا۔۔۔
نہیں۔۔۔ ارحم کے پیچھے چھپا وہ نازک وجود بگڑتی صورتحال پر چیخ مارتا پیچِے ہٹا۔۔۔
نن۔۔۔ نہیں۔۔ ارحم۔۔۔ نہیں۔۔۔ عینا کرلائی
آ۔۔ آپ ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔ مم۔۔ میں اپکے لئے اپنا گھر بار۔۔۔ ہر چیز۔۔۔ ہر چیز داو پر لگا کر واپسی کے سبھی راستے بند کئے ساری کشتیاں جلا کر آئی ہوں۔۔۔ وہ نازک وجود مخالف چلتی ہواوں کے تھپیروں میں بے یارو مددگار رہ جانے کے خوف سے تڑپ تڑپ کر رو دیا۔۔۔
ارحم کے دل کی ڈھرکنیں سست پڑنے لگیں تھیں۔۔۔ ایک طرف محبت تھی تو دوسری طرف اسکے پاوں کو پکڑے اسے بے دم کرتی ماں۔۔ جبکہ سامنے باپ ریوالور تانے کھڑا تھا۔۔۔ اسے لگا ابھی روح قفص عنصری سے پرواز کر جائے گی۔۔۔
دو۔۔۔۔
ارحم کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا۔۔۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحتیں مفلوج ہو رہی تھیں۔۔۔
ارحم میں تمہیں دودھ نہیں بخشوں گی ۔۔۔ تمہیں اپنا مرا منہ تک نہیں دیکھنے دوں گی۔۔۔ ماں پھپھپک کر رو دیں۔۔۔۔ انکے کمزور ہاتھوں کی گرفت اسکے قدموں سے ڈھیلی پڑی۔۔۔ وہ گہرے گہرے سانس بھر رہیں تھیں۔۔۔
ماں۔۔۔
شامیر انکی ٹیرھی ہوتی آنکھین اور ڈھیلا پڑتا جسم دیکھ شدت سے انکی جانب لپکا۔۔۔
طلاق دو اس لڑکی کو ارحم ورنہ میں گولی چلا دوں گا۔۔۔
نہیں ارحم۔۔۔ نہیںنننن۔۔۔
ماںنننننن۔۔۔
تینننن۔۔۔
گہرے گہرے سانس لیتا ارحم اس یکدم پلٹا کھا کر بگڑتی صورتحال کے ڈھارے میں بہتا۔۔۔۔فق پڑتی رنگت اور بہتی آنکھوں سمیٹ بے دم ہوتے وجود کیساتھ گرتا پڑتا محبت کی بازی ہار گیا تھا۔۔۔
اتنی دیدہ دلیری سے ایک بڑا قدم اٹھا کر باپ کے روبرو آنے کے بعد وہ ماں کی دم توڑتی حالت اور باپ کا جنون دیکھ ہارتے ہوئے وہ قبیح الفاظ منہ سے نکال گیا جسنے لمحے میں مضبوطی سے جڑے رشتے کو کچے دھاگے کی مانند ثابت کرتے ان دونوں کو لمحوں میں ایک دوسرے پر حرام کر دیا تھا۔۔۔
ساتھ ہی جہاں بابا کے منہ پر فاتحانہ مسکراہٹ چمکی وہیں اپنے پیچھے سے ڈھرام کی ابھرتی آواز پر وہ لمحے کے ہزارویں حصے میں پلٹا اور پیچھے اسکی بے وفائی و عہدو پیمان میں کاذب ٹھہرنے پر وہ معصوم یہ صدمہ نا سہارتے سانسوں کی ٹوٹی ڈور سمیٹ آنکھیں آپس میں پیوست کئے زمین بوس ہو چکی تھی۔۔۔
جیسے اس غضب کی بے وفائی کے بعد وہ اس بے وفا کا چہرا دیکھنا بھی خود پر حرام کر چکی ہو۔۔۔
جبکہ محبت کی اس ناقدری پر گویا ارحم کا دل پھٹ گیا۔۔۔ آنکھ سے خون ٹپکنے لگی۔۔۔ اسے لگا وہ دوسرا سانس تک نا لے پائے گا۔۔۔
From novel rahe e Haq.....
#ام_ہانیہ
#راہِ_حق
#2nd_part_of_this_novel_is #Jannat_say_pehly ongoing a
Complete novel link 🖇️👇
youtube.com/@ummehania786?si=-jT_BXCCxaWBC5Nb to
_______
دیکھو عینا آج میں ایک باپ بن کر تمہارے پاس آیا ہوں۔۔۔ اسنے ہاتھ باہم پیوست کئے عاجزی سے بات شروع کی۔ ۔۔
میرا بیٹا تمہاری بیٹی سے بہت محبت کرتا ہے۔۔۔۔ وہ اسے بہت خوش رکھے گا۔۔۔ بالکل ویسی محبت جیسی محبت اسکے باپ نے کی تھی۔۔۔ عینا نے تحمل سے اسکی بات کاٹی آواز میں گہری کاٹ تھی۔۔۔ ارحم کرب سے لب بھینچ گیا۔۔۔ اور ریحان بھی فجر کو اتنا ہی خوش رکھے گا جتنا اسکا باپ رکھ سکا تھا۔۔۔ اتنے ہی وعدے ایفا کرے گا۔۔ جتنے اسکے باپ نے کئے۔۔ اتنی ہی وفا نبھائے گا جتنی اسکے ۔۔۔ وہ گہرا سانس بھرتی کچھ توقف کو رکی۔۔ اسکے باپ نے نبھائی۔۔ اسنے لفظ باپ پر زور دیا۔۔۔ اسکی آنکھیں لبالب پانیوں سے بھر چکی تھی۔۔ ماضی کریدنا آسان نا تھا۔۔۔
مسٹر ارحم خان بہت مشکل سے ماضی کو بھلا کر آگے بڑھی ہوں۔۔۔ یہ دیکھو میرے جڑے ہوئے ہاتھ میری زندگی میں سکون برقرار رہنے دو۔۔۔ کیوں آئے ہو تم میری زندگی میں واپس۔۔ میرے رفو کئے ہوئے زخم اڈھیرنے کے لئے۔۔۔ ایک دب چکی بات کو پھر سے کھودنے۔۔ راکھ کریدنے۔۔۔ اپنا دھوکہ یاد کروانے۔۔۔اور اس انداز میں۔۔۔
کیوں میں اپنی پھولوں سی بیٹی کے لئے تم پر یا تمہارے بیٹے پر یقین کروں۔۔ کیا ایک تجربہ میرے لئے کافی نہیں۔۔۔ یا عینا نے صدا بیوقوف ہی رہنا ہے۔۔ کیوں میں اپنی بیٹی کو اپنے ہاتھوں سے دہکتی آگ میں پھینکو۔۔۔ اس آگ میں جس میں اسکی ماں کئ سالوں تک جلتی رہی تڑپتی رہی۔۔۔ اسکی آواز میں کرب ہی کرب تھا۔۔ گزرے دنوں کی اذیت نمایاں تھی
کیا ایک دفعہ بیچ منجدھار پر رسوا ہو کر ذلیل و خوار ہو کر بھی مجھے عقل نہیں آسکتی۔۔۔ تمہیں پتہ ہے ارحم۔۔ یہ محبت تم جیسے رئیس زادوں کے بس کی بات نہیں۔۔۔ اور میری بیٹی کو اس سب میں مت گھسیٹو۔۔۔ جو شخص محبت کے جھوٹے وعدے کر کے ہمیشہ ساتھ نبھانے کے وعدے کرکے وفا کے وعدے کر کے آزمائش کی پہلی سیڑھی پر ہی بے طرح ہاتھ چھڑوالے کیا وہ اعتبار کے قابل ہوتا ہے ۔۔ عینا کی آواز کا کرب ارحم کا دل چیر رہا تھا۔۔۔
تمہاری ساری باتیں درست عینا ۔ لیکن تمہیں خدا کا واسطہ ہے میرے کئے کی سزا میرے بیٹے کو مت دو۔۔ وہ میں تھا ارحم خان جو تند و تیز آندھی کے باعث اپنا آشیانہ نا بچا سکا ۔
یہ ریحان ہے جو ہر سرد و گرم کا چٹان بن کر مقابلہ کر سکتا ہے۔۔۔ ارحم خان کا باپ واجد خان تھا جس کے لئے اولاد اور اسکی خوشی سے اہم روایات کی پاسداری تھی اونچا شملہ تھا سٹیٹس تھا۔۔ ریحان کا باپ ارحم خان ہے جسکی پہلی ترجیح اسکی اولاد کی خوشی ہے۔۔۔ بے بسی سے کہتے ارحم کی آواز میں نمی کی آمیزش گھلنے لگی وہ آج اپنے فرمابردار ترین بیٹے کی خوشی کے لئے خالی کشکول لئے اس لڑکی کے سامنے بیٹھا تھا جسکا دل اپنے ہاتھوں اجاڑ کر اسنے پتھر کیا تھا۔۔۔
تمہارے لئے تمہارے بیٹے کی خوشی اہم ہے ارحم اور میرے لئے میری بیٹی سے بڑھ کر اس دنیا میں کچھ نہیں اور میں اسے کسی بھی تجربے کی بھینت چڑھنے نہیں دوں گی۔۔۔
عینا وہ میرا بہت فرمابردار بیٹا ہے۔۔ اسنے زندگی میں کبھی کوئی خواہش نہیں کی۔۔ زندگی میں پہلی مرتبہ اسنے اپنی چاہت کا اظہار کیا ہے مجھے نہیں پتہ تھا کے یوں اس طرح سے قسمت مجھے تمہارے در پر لے آئے گی تمہیں خدا کا واسطہ ہے عینا اسکا دل مت اجاڑو۔۔۔ اس پر اتنا ظلم مت کرو۔۔۔ وہ آخری حد تک بیٹے کے لئے اپنا کیس لڑنے کی کوشیش کر رہا تھا۔۔
ظالم کے منہ سے ایسی باتیں اچھی نہیں لگتیں ارحم۔۔۔ میری زندگی میں تو ایسا ممکن نہیں۔۔۔ شدت ضبط سے ارحم کے لب کپکپا اٹھے۔۔ کوشیش کرنا دوبارہ میرے سامنے مت آنا ارحم اور اس حوالے سے تو بالکل بھی نہیں۔۔۔
From Novel Jannat say Pehly 2nd part of Novel Rah e Haq
#جنت-سےـپہلے
#از_ام_ہانیہ
Ongoing) All episodes link till now
youtube.com/playlist?list=PLv...

2 weeks ago | [YT] | 8

Writer Umme Hania

Episode is on the way... will be uploaded in 1 or 2 hours.. till then enjoy the sneak peek and stay connected....
youtube.com/shorts/pnX_ZTGyIp...

2 weeks ago (edited) | [YT] | 6

Writer Umme Hania

تم گھٹیا عورت....مصطفی نے ایک جھٹکے سے اس کے چہرے پر لڑھک آنے والے گھونگھٹ کو بے دردی سے نوچ کر اتنی زور سے کھینچا تھا کہ دوپٹے پر لگی پنیں ٹوٹ کر اس کے چہرے اور گردن پر کئی خراشیں پیدا کرتیں دور جا کر گری تھی....

آہ ہ ہ وہ کراہ کر رہ گئی تھی تکلیف ناقابل برداشت تھی ننھی ننھی خون کی بوندیں چہرے اور گردن پر چمکنے لگیں تھیں اس سے پہلے کہ وہ لڑکھڑا کر دور جا گرتی مصطفی نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنے مقابل کھڑا کیا تھا......

بھوری کانچ سی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو تیرنے لگے تھے کوئی باہوش انسان ہوتا تو اس وقت اس کے ہوشربا سرلاپے کے آگے اپنے ہوش کھو بیٹھا.... لیکن یہی تو بات تھی کہ وہ اس وقت ہوش میں نہیں تھا بلکہ اس پر ایک جنون سوار تھا........

کہا تھا نہ میں نے کی شادی سے انکار کر دو ورنہ پوری زندگی پچھتاوگی کہا تھا نا میں نے مصطفی نے اس کا منہ اپنے سخت ہاتھ کی گرفت میں جھکڑ کر کئی جھٹکے دیئے پر مقابل تو بس حیرت اور خوف سے پوری آنکھیں کھولے یک ٹک اسے دیکھے جا رہی تھی.............

بڑا شوق ہے نہ تمہیں مدر ٹیریسا بننے کا ساری زندگی تمہیں سسک سسک کر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جینے پر مجبور نہ کیا تو میرا نام بھی مصطفی نہیں....اپنے اوپر ہونے والے ہر ظلم کی وجہ تم خود ہو گی کیونکہ میں تمہیں ہر چیز کے لیے وارن کر چکا تھا بہرحال اس زندگی کا انتخاب تمہارا اپنا ہے اور میں پوری کوشش کروں گا اسے بد سے بدترین بنانے میں........

مصطفی نے اسے ایک جھٹکے سے دور پھینکا تھا اور وہ اوندھے منہ نیچے جا گری تھی سائڈ ٹیبل کا کو نہ لگنے سے اس کے ماتھے سے خون کی ایک پتلی لکیر بہہ نکلی تھی جسے اس نے کراہتے ہوئے اپنے ہاتھ سے روکنے کی کوشش کی تھی...........

مصطفی نفرت سے یہ منظر دیکھتا ہوا سر جھٹک کر جس طرح آیا تھا ویسے ہی باہر چلا گیا مصطفی کا خون کھول رہا تھا سر درد سے پھٹا جا رھا تھا اسے اس سے کوئی عداوت نہیں تھی بلکہ عداوت اس کے بھائی سے تھی جو کہ اس کے جان سے پیارے بھائی کا قاتل تھا... مصطفی اس سرپھرے شخص کو بھی اتنی ہی دردناک موت دینا چاہتا تھا جتنی در ناک موت اس نے مصطفی کے عزیز ازجان بھائی کو پہنچائی تھی.....

#از-ام-ہانیہ
Complete 💯✅ novel👇
https://youtu.be/B8WTxB46YAU?si=mzDgH...

2 weeks ago | [YT] | 5

Writer Umme Hania

یہ کیا کر رہی ہو ۔۔۔ وہ پنٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتا دو قدم مزید اندر آیا۔۔۔ نگاہیں ارد گرد کا تنقیدی جائزہ لے رہی تھیں جہاں بیڈ کے وسط میں ایک سفری بیگ کھلا پڑا تھا جس میں فاہا الماری سے کپڑے نکال کر رکھ رہی تھی۔۔۔

کچھ نہیں۔۔۔ وہ بجھے بجھے لہجے میں کہتی الماری کا کھلا پٹ بند کر کے پلٹی اور ہینگر سے کپڑے نکال کر تہہ کرنے لگی۔۔۔

مرتسم نے بغور اسکا بجھا بجھا انداز نوٹ کیا۔۔۔ وہ مرتسم کی جانب دیکھنے سے گریزاں تھی۔۔۔

دوسری جانب فاہا لودھی مرتسم کی اس بے وقتی آمد سے خاصی جزبر تھی۔۔۔ اب ناجانے وہ یہاں کیوں آیا تھا۔۔۔ فاہا جاتے جاتے وہاں کوئی بدمزگی نہیں چاہتی تھی تبھی لب سیئے  رہی۔۔۔

علایہ بتا رہی تھی کے تم واپس جا رہی ہو۔۔۔ مرتسم نے اسے خاموش دیکھ سلسلہ کلام جوڑا۔۔۔

جی ۔۔۔ مختصر سے جواب پر مرتسم کے ماتھے پربل پڑے۔۔۔ 

کیوں۔۔۔ وہ سختی سے کہتا پاس پڑی کرسی کو کھینچ کر اس پر بیٹھا اور بھینچے جبڑوں سے خاموش گم صم سی کھڑی کپڑے فولڈ کرتی فاہا کو دیکھا۔۔۔

فاہا خاموش ہی رہی۔۔۔ گلے میں نمکین پانیوں کا گولہ سا اٹکنے لگا تھا۔۔  یقیناً کچھ بولنے کی سعی میں گلہ رھند جاتا۔۔۔ اسنے آنکھیں جھپک جھپک کر آنسوں کا گلہ گھونٹا۔۔۔۔۔مرتسم باریک بینی سے اسکے چہرے کا ایک ایک تاثر نوٹ کر رہا تھا۔۔۔

فاہا لودھی تم یہاں آئی کیوں تھی۔۔۔ مرتسم نے سوال بدلا۔۔۔ وہ لب بھینچ کر رہ گئ۔۔۔

مجھے جہاں تک یاد پڑتا ہے ۔۔۔ تم شاید چچا جان کا خواب پورا کرنے آئی تھی۔۔۔ کیونکہ انکا کوئی بیٹا نہیں تو وہ چاہتے تھے کے انکی بیٹی انکا خواب پورا کرے۔۔۔ سی ایس ایس کر کے کسی اعلی عہدے پر پہنچے۔۔۔ایسا کچھ نہیں تھا کیا۔۔۔  وہ نا صحانہ انداز میں بولا ۔۔۔

بیگ میں کپڑے رکھتے فاہا کے ہاتھ کپکپائے۔۔۔ ۔ اسنے آخری سوٹ بھی بیگ میں رکھ کر اسکی زپ بند کی۔۔۔

اب تم میری بات سنو فاہا لودھی۔۔۔ وہ کھڑے ہوتے فاہا کے بالمقابل آیا۔۔۔

تمہیں میری روک ٹوک بری لگتی ہے ۔۔۔ ہو سکتا ہے میں تم سے بات کرتے جذباتی ہو گیا ہوں اور تمہیں میرا لہجہ پسند نا آیا ہو۔۔۔ 

لیکن اپنے چھوٹے سے دماغ میں ایک بات بٹھا لو کے مرتسم لودھی ہر کسی کے لئے ٹمپر لوز نہیں کرتا۔۔۔  مرتسم لودھی ہر ایری گیری لڑکی پر نا روک ٹوک کرتا ہے اور نا ہی اسکے لئے بیچ سڑک پر گاڑی روکتا ہے۔۔۔

مرتسم کے انداز پر فاہا سانس تک روک گئ۔  وہ ہمیشہ سے ہی سٹریٹ فارورڈ تھا۔۔۔ اسے بات گھما پھرا کر کرنی آتی ہی نا تھا۔۔۔ نا اسے دل رکھنا آتا تھا ۔۔ نا ہی باتوں کو گھمانا پھرانا آتا تھا۔۔۔ جو بات ہوتی یا جو دل میں ہوتا وہ فوراًکہہ دیتا۔۔ 

تم مجھے عزیز ہو۔۔۔ اس گھر کی عزت ہو۔۔۔ میرے چچا کی بیٹی ہو۔۔۔ اگر تم غیر جانبداری سے ہر چیز کا جائزہ لو نا تو شاید تمہیں تمہاری کوتاہیاں دکھائی دے جائیں۔۔۔

میری تم سے کوئی دشمنی نہیں ہے جو بقول تمہارے میں ہاتھ دھو کر تمہارے پیچھے پڑ گیا ہوں۔۔۔

تمہارے لئے روک ٹوک کا میرے پاس وہی معیار ہے جو علایہ کے لئے ہے۔۔۔ 

پہلے ہی دن تم ہونیورسٹی کے سب سے بدنام گروپ میں گھر گئ۔۔۔ اتنی ہی کسی کی کیا دہشت کے تم ان پر دو حرف بھیج کر وہاں سے واک آوٹ نہیں کر سکئ۔۔۔ انکے سامنے تھر تھر کانپنے سے بہتر نہیں تھا کے تھوڑی سی ہمت دکھا دی جاتی۔۔۔۔ انہیں ٹکرا ٹوڑ جواب نہیں دے سکتی تھی تو وہاں ٹھہرتی بھی نا۔۔۔ کوئی تمہیں کھا نا جاتا۔۔۔ تمہاری جگہ یہاں علایہ ہوتی تو شاید میں اس سے بھی زیادہ ضبط کھو جاتا ۔۔۔ اور اہم بات پتہ ہے کیا۔۔۔ وہ ہنوز فاہا کو دیکھ رہا تھا جسکی زبان آج تالو سے چپک چکی تھی۔۔۔  اسے پتہ ہوتاکے میں نے اگر ضبط کھویا تو اسکے لئے۔۔۔ اگر اسے ڈانٹا یا اس پرسختی کی تو بھی اسکی بھلائی کے لئے۔۔۔ کیونکہ میں اسکا اپنا ہوں۔۔۔وہ میری باتوں سے سبق سیکھتی۔۔۔ انہیں پلو سے باندھتی۔۔۔ تمہاری طرح جسٹیفکیشن نا دیتی پھڑتی۔۔۔  تم یہاں اپنے رونے لے کر بیٹھی ہو۔۔۔ لیکن درحقیقت تم نے اس گھر کو اور اس گھر کے مکینوں کو اپنا سمجھا ہی نہیں۔۔۔ سمجھا ہوتا تو تم یوں اوور ری ایکٹ نا کرتی۔۔۔

Novel link 👇 

https://youtu.be/p6Fr-S_A7Ls?si=r2b40...

2 weeks ago | [YT] | 5