Industrial Engineer Layout Designer.

Wow


Industrial Engineer Layout Designer.

🌟 حدیث 1:
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ:

"مَن كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ"
(صحيح البخاري: 6136، صحيح مسلم: 47)

ترجمہ:
جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے۔

🌟 حدیث 2:
عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ:

"أَكْثَرُ خَطَايَا ابْنِ آدَمَ فِي لِسَانِهِ"
(الطبراني، صحيح الجامع: 1201)

ترجمہ:
ابنِ آدم کے اکثر گناہ اس کی زبان کی وجہ سے ہوتے ہیں۔

🌟 حدیث 3:
عن سهل بن سعد رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ:

"مَن يَضْمَنْ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ أَضْمَنْ لَهُ الْجَنَّةَ"
(صحيح البخاري: 6474)

ترجمہ:
جو شخص مجھے اپنی زبان اور شرمگاہ کی ضمانت دے، میں اس کے لیے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔

🌟 حدیث 4:
عن النبي ﷺ قال:

"إنَّ من حُسنِ إسلامِ المرءِ تركَهُ ما لا يَعنيهِ"
(سنن الترمذي: 2317، صحيح)

ترجمہ:
آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ فضول اور غیر ضروری باتوں کو چھوڑ دے۔

6 months ago | [YT] | 0

Industrial Engineer Layout Designer.

ایک ٹویوٹا کرولا کے دروازے پہ ڈینٹ تھا۔ اس کے مالک نے ڈینٹ والا دروازہ کبھی مرمت نہیں کرایا. کوئی پوچھتا تو وہ بس یہی کہتا "زندگی کی دوڑ میں اتنا تیز نہیں چلنا چاہیے کہ کسی کو اینٹ مار کر گاڑی روکنی پڑے"۔
سننے والا اس کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر قدرے حیران ہوتا اور پھر سمجھتے، نہ سمجھتے ہوئے سر ہلا دیتا؛
-سرگوشی سنو گے یا اینٹ سے بات سنو گے !
ایک نوجوان بزنس مینیجر اپنی برانڈ نیو ٹویوٹا کرولا میں دفتر سے ڈی ایچ اے میں واقع گھر جاتے ہوئے ایک پسماندہ علاقے سے گزرا جو مضافات میں ہی واقع تھا. اچانک اس نے ایک چھوٹے بچے کو بھاگ کر سڑک کی طرف آتے دیکھا تو گاڑی آہستہ کردی. مگر پھر بھی اس نے بچے کو کوئی چیز اچھالتے دیکھا۔ ٹھک کی آواز کے ساتھ ایک اینٹ اس کی نئی گاڑی کے دروازے پر لگی تھی. اس نے فوراً بریک لگائی اور گاڑی سے باہر نکل کر دروازہ دیکھا جس پر کافی بڑا ڈینٹ پڑ چکا تھا.
اس نے غصے سے ابلتے ہوئے بھاگ کر اینٹ مارنے والے بچے کو پکڑا اور زور سے جھنجھوڑا. "اندھے ہوگئے ہو، پاگل کی اولاد؟ تمہارا باپ اس کے پیسے بھرے گا؟" وہ زرو سے دھاڑا
میلی کچیلی قمیض پہنے بچے کے چہرے پر ندامت اور بے چارگی کے ملے جلے تاثرات تھے.
"سائیں، مجھے کچھ نہیں پتہ میں اور کیا کروں؟
میں ہاتھ اٹھا کر بھاگتا رہا مگر کسی نے گل نئیں سنی." اس نے ٹوٹی پھوٹی اردو میں کچھ کہا. اچانک اس کی آنکھوں سے آنسو ابل پڑے اور سڑک کے ایک نشیبی علاقے کی جانب اشارہ کیا "ادھر میرا ابا گرا پڑا ہے. بہت وزنی ہے. مجھ سے اُٹھ نہیں رہا تھا، میں کیا کرتا سائیں؟"۔
بزنس ایگزیکٹو کے چہرے پر ایک حیرانی آئی اور وہ بچے کے ساتھ ساتھ نشیبی علاقے کی طرف بڑھا تو دیکھا ایک معذور شخص اوندھے منہ مٹی میں پڑا ہوا تھا اور ساتھ ہی ایک ویل چیئر گری پڑی تھی۔ ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ شائد وزن کے باعث بچے سے ویل چیئر سنبھالی نہیں گئی اور نیچے آگری اور ساتھ ہی پکے ہوئے چاول بھی گرے ہوئے تھے جو شاید باپ بیٹا کہیں سے مانگ کے لائے تھے۔
"سائیں، مہربانی کرو. میرے ابے کو اٹھوا کر کرسی پر بٹھا دو." اب میلی شرٹ والا بچہ باقاعدہ ہچکیاں لے رہا تھا۔
نوجوان ایگزیکٹو کے گلے میں جیسے پھندا سا لگ گیا۔ اسے معاملہ سمجھ آگیا اور اپنے غصے پر بہت ندامت محسوس ہورہی تھی۔ اس نے اپنے سوٹ کی پرواہ کیے بغیر آگے بڑھ کر پوری طاقت لگا کر کراہتے ہوئے معذور شخص کو اٹھایا اور کسی طرح ویل چیئر پر بٹھا دیا۔ بچے کے باپ کی حالت غیر تھی اور چہرہ خراشوں سے بھرا پڑا تھا۔
وہ بھاگ کر اپنی گاڑی کی طرف گیا اور بٹوے میں سے پچاس ہزار نکالے اور کپکپاتے ہاتھوں سے معذور کی جیب میں ڈال دیے۔ پھر ٹشو پیپر سے اس کی خراشوں کو صاف کیا اور ویل چیئر کو دھکیل کر اوپر لے آیا۔ بچہ ممنونیت کے آنسوؤں سے اسے دیکھتا رہا اور پھر باپ کو لیکر اپنی جھگی کی طرف چل پڑا۔ اس کا باپ مسلسل آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاتے ہوئے نوجوان کو دعائیں دے رہا تھا۔
نوجوان نے بعد میں ایک خیراتی ادارے کے تعاون سے جھگی میں رہنے والوں کے لیے ایک جھگی سکول کھول دیا اور آنے والے سالوں میں وہ بچہ بہت سے دوسرے بچوں کے ساتھ پڑھ لکھ کر زندگی کی دوڑ میں شامل ہوگیا۔
وہ ٹویوٹا کرولا اس کے پاس مزید پانچ سال رہی، تاہم اس نے ڈینٹ والا دروازہ مرمت نہیں کرایا. کبھی کوئی اس سے پوچھتا تو وہ بس یہی کہتا "زندگی کی دوڑ میں اتنا تیز نہیں چلنا چاہیے کہ کسی کو اینٹ مار کر گاڑی روکنی پڑے"۔
اوپر والا کبھی ہمارے کانوں میں سرگوشیاں کرتا ہے اور کبھی ہمارے دل سے باتیں کرتا ہے. جب ہم اس کی بات سننے سے انکار کردیتے ہیں تو وہ کبھی کبھار ہمارے طرف اینٹ بھی اچھال دیتا ہے۔
پھر وہ بات ہمیں سننا پڑتی ہے۔
ہم جہاں ملازمت، بزنس، خاندان، بیوی بچوں کی خوشیوں کے لیے بھاگے جارہے ہیں، وہیں ہمارے آس پاس بہت سی گونگی چیخیں اور سرگوشیاں بکھری پڑی ہیں۔ اچھا ہو کہ ہم اپنے ارد گرد کی سرگوشیاں سن لیں تاکہ ہم پر اینٹ اچھالنے کی نوبت نہ آئے۔😔😔😔
Copied

1 year ago | [YT] | 0

Industrial Engineer Layout Designer.

www.fiverr.com/s/49L04R



"Transform your vision into reality with precision and style! 🏡 Excited to launch my AutoCAD floor plan gig on Fiverr! 🚀 Offering top-notch design services to bring your dream spaces to life. 📐 Let's create the perfect blueprint for your home or project. Check it out now on Fiverr! #AutoCAD #FloorPlanDesign #ArchitecturalDesign #FiverrGig"

1 year ago | [YT] | 0

Industrial Engineer Layout Designer.

#autocad#floorplan#auticadstudent#design
www.fiverr.com/s/KZNqdb

"Unlock the potential of your space with my professional AutoCAD floor plans! 🏡✨ Check out my latest YouTube video for a detailed showcase and let's transform your vision into reality. Link in bio! #AutoCAD #FloorPlanDesign #InteriorDesign"

2 years ago (edited) | [YT] | 0

Industrial Engineer Layout Designer.

car24forall.blogspot.com/2023/10/auto-refreshing-p…

To create a VBA code for auto-refreshing a PivotTable in Excel, follow these steps:



1. Open your Excel workbook.



2. Press `Alt + F11` to open the Visual Basic for Applications (VBA) editor.



3. In the VBA editor, locate your worksheet by clicking on the appropriate sheet under "VBAProject (Your Workbook Name)" in the Project Explorer window on the left.



4. Right-click on the sheet and select "View Code."



5. In the code window that appears, you can use the following VBA code to refresh the PivotTable automatically when the sheet is activated:



```vba

Private Sub Worksheet_Activate()

' Define the PivotTable name (replace "PivotTable1" with the actual name)

Dim pt As PivotTable

Set pt = ThisWorkbook.Sheets("SheetName").PivotTables("PivotTable1")



' Refresh the PivotTable

pt.RefreshTable

End Sub

```



Replace "SheetName" with the name of your sheet, and "PivotTable1" with the actual name of your PivotTable.



6. Save your VBA project and close the VBA editor.



Now, whenever you activate the sheet, the PivotTable will be automatically refreshed.



Remember to save your Excel file as a macro-enabled workbook (with the .xlsm extension) to ensure that the VBA code works properly.

2 years ago | [YT] | 0