AJC

سنتا جا شرماتا جا کٹ لو جینا لوٹ سکتے ہ خود خدا تو ہے نہیں

حال ہی میں پاکستان کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کی جانب سے یہ رائے سامنے آئی ہے کہ چونکہ پاکستان کے حالات بہتر نہیں ہو رہے، اس لیے ہر سال ایک کمیٹی بنائی جائے جو خانۂ کعبہ جا کر پاکستان کے لیے خصوصی دعائیں مانگے کہ اللہ تعالیٰ ملک کی تقدیر بدل دے اور حالات بہتر فرما دے۔ بلاشبہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ پاک دعائیں سنتا ہے اور دعا مومن کا ہتھیار ہے، اس پر کسی مسلمان کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔



لیکن تاریخ، دین اور عقل ہمیں یہ بھی سکھاتے ہیں کہ صرف دعاؤں سے قوموں کے حالات نہیں بدلتے۔ دعا کے ساتھ ساتھ کردار، ایمانداری، منصوبہ بندی، حکمتِ عملی اور عملی جدوجہد بھی لازمی ہوتی ہے۔ اگر محض دعاؤں سے ہی نظام درست ہو جانا ہوتا تو دنیا کی سب سے زیادہ عبادت گزار قومیں بھی مکمل طور پر مسائل سے آزاد ہوتیں۔



اسی حقیقت کی طرف اشارہ ایک مشہور واقعہ بھی کرتا ہے جسے میں نے کہیں پڑھا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ جب یہودیوں میں دیوارِ گریہ پر دعا کا دن آیا تو اسرائیل کے پہلے وزیرِاعظم دفتر جانے کے لیے نکل رہے تھے۔ اس موقع پر ان کی بیٹی نے کہا:



“بابا! آج دیوارِ گریہ پر دعا کا دن ہے، آپ دعا کے لیے نہیں جائیں گے؟”



اس پر انہوں نے بیٹی سے پوچھا:

“بیٹا! اس وقت یہودیوں کی تعداد کتنی ہے؟”

بیٹی نے جواب دیا:

“چند ہزار ہوں گے۔”



پھر انہوں نے پوچھا:

“اور مسلمان کتنے ہیں؟”

بیٹی نے کہا:

“کروڑوں میں ہیں۔”



اس پر انہوں نے کہا:

“وہ روز ہمارے خلاف بددعائیں کرتے ہیں کہ اللہ یہودیوں کو نابود کر دے۔ کیا ہم نابود ہو گئے؟”

بیٹی نے کہا:

“نہیں۔”



تو انہوں نے کہا:

“صرف دعاؤں سے کچھ نہیں ہوتا۔ کامیابی کے لیے عمل بھی ضروری ہوتا ہے۔ دعا بعد میں بھی ہو سکتی ہے، پہلے ہمیں کام کرنا ہے۔”



یہ واقعہ سچ ہو یا محض ایک مثال، لیکن اس میں ایک گہرا سبق ضرور ہے کہ قومیں صرف دعاؤں سے نہیں، بلکہ عمل، حکمت اور منصوبہ بندی سے آگے بڑھتی ہیں۔



بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایسے فیصلے اکثر سنجیدہ اصلاح کے بجائے ذاتی مفادات اور مفت عمرہ کا راستہ بن جاتے ہیں، جو بالآخر کرپشن کے ایک نئے دروازے کھول دیتے ہیں۔ قوموں کی تقدیر وفود بھیجنے سے نہیں، بلکہ انصاف کے نظام، کرپشن کے خاتمے، تعلیم کی بہتری، معیشت کی مضبوطی اور قانون کی حکمرانی سے بدلتی ہے۔



دینِ اسلام بھی ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ:

پہلے اونٹ کو باندھو، پھر اللہ پر توکل کرو۔



اگر واقعی پاکستان کو بہتر بنانا ہے تو ہمیں رسمی دعاؤں اور نمائشی اقدامات کے بجائے:



اپنے کردار درست کرنے ہوں گے



اداروں کو مضبوط بنانا ہوگا



لوٹ مار اور ناانصافی کا خاتمہ کرنا ہوگا



اور ایک واضح، دیانتدارانہ حکمتِ عملی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا





صرف خانۂ کعبہ میں دعاؤں کے وفود بھیجنے سے نہ نظام درست ہوگا اور نہ ہی قوم کی تقدیر بدلے گی۔

اللہ ہمیں سچی توبہ، درست عمل اور حقیقی اصلاح کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

2 weeks ago | [YT] | 1