Rakhshanda Batool

relation of life, world and literature
all about it
Education and PoetryPoetry

Follow me on Facebook for daily storytelling & literature posts:
www.facebook.com/share/1BnQgAVSk2/


Rakhshanda Batool

"ماں یہ بھی پھینک دوں رنگ اتر گیا ہے ان کا ؟"
"نہیں میری دراز میں رکھ دو انہیں ۔۔۔۔ان کا رنگ نہیں اترا بلکہ وقت کا رنگ چڑھ گیا ہے ان پر۔ ۔۔۔"
"وقت کا رنگ ؟؟وہ کون سا رنگ ہوتا ہے ماں ؟"
"یہ میں نہیں بتا سکتی یہ تمہیں وقت خود بتائے گا ۔۔۔۔۔"
🥀🥀🥀🥀🍂🍂

#learning #life #like #art #beauty

1 week ago | [YT] | 5

Rakhshanda Batool

تماش بین دنیا کے سامنے ٹوٹنا اور بکھرنا بھی اتنا ہی مشکل ہے جتنا خود کو جوڑ کر، سمیٹ کر رکھنا۔
‪@YouTube‬

1 week ago | [YT] | 4

Rakhshanda Batool

پھر ملیں گے اگر خدا لایا ۔۔۔❤️

1 week ago | [YT] | 4

Rakhshanda Batool

تو پھر کیا بنتا ہے آپ کے گھر شب برات پر ؟

#ShabeBarat #Mubarak #dessert

2 weeks ago | [YT] | 5

Rakhshanda Batool

میری سہیلی !

پچھلے دو سال میں پہلے تعارف کے بعد وہ 80 سالہ خاتون جب بھی دور گاؤں سے کرایہ بھر کر اپنی پھولی ہوئی سانس کے ساتھ دفتر آتی ہیں تو میں ہر بار کہتی ہوں کہ یہ تو چھوٹا سا کام تھا فون پر ہو جاتا ۔ اور وہ محبت سے میری طرف دیکھتی ہیں اور کہتی ہیں ، " ہک تے میرے کول فون کوئی نئیں دوجا میں سوچیا تیرے نال وی ملاقات ہو جائے گی ۔" ❤️
ان کی پوتی میرے پاس سال دوم کی طالبہ ہے ۔ اس سے چھوٹا ایک اور پوتا اور پوتی بھی ہیں ۔ بہو آخری بچے کی پیدائش کے دوران انتقال کر گئی تو بیٹا دوسری شادی کر کے الگ ہو گیا ۔ دادی لوگوں کے گھر کام کرتی ہیں اور ان بچوں کو نہ صرف پال رہی ہیں بلکہ پڑھا لکھا بھی رہی ہیں ۔ گاؤں کے لوگوں کو دعائیں دیتی ہیں کہ وہ ان کو کام دے دیتے ہیں تو بچے پل رہے ہیں ۔ پوتا فرسٹ ایئر میں ہے، جلدی کام کرنے لگے گا اس امید پر وہ ابھی بھی لوگوں کے گھر کام کرتی ہیں ۔ میں جب پوچھتی ہوں کہ آپ وہاں کیا کام کرتی ہیں تو حقیقت پسندی سے کہتی ہیں کہ 80 سال کی عورت بھلا کیا کام کرے گی لیکن میرے گاؤں کے لوگ کہتے ہیں،" تم تو ہماری ماں ہو "،اپنے ہر خوشی اور غم کے موقع پر مجھے اپنے کام میں شریک کر کے پیسے دے دیتے ہیں ۔ وہ واقعی ماں ہیں ، ویسی ماں جیسا ایک ماں کو ہونا چاہیے ، زمانے سے ٹکرا جانے والی مضبوط اور مثبت عورت جو برے حالات میں بیٹھ کر رونے دھونے کی بجائے اپنے حصے کا بلکہ شاید اپنے حصے سے زیادہ کام کر کے اس دنیا سے جائے گی ۔ ان کو بھی پالے گی جو شاید اس کی ذمہ داری نہیں ہیں اور ان سے بھی محبت کرے گی جو محبت کے قابل نہیں ۔ کیونکہ معاشرے پر تو ہے یا نہیں لیکن اس کو خود پر اعتبار ہے ۔ میں ان نم ہوتی آنکھوں سے جان چھڑانے کے لیے کہتی ہوں اچھا اپنا بتائیں نا ! وہ کیسا تھا خیال رکھتا تھا آپ کا ؟ تو جواب میں وہ کہتی ہیں ، اب تو اتنے مشکل وقت دیکھ لیے کہ کوئی اچھا وقت یاد بھی نہیں ہے ۔ پھر مسکرا کر کہتی ہیں ،تم یہ نہ سمجھنا میں تم سے کچھ چھپا رہی ہوں، مجھے واقعی نہیں یاد کہ وہ کیسا تھا ۔وقت نے اتنے رنگ دکھائے ہیں کہ اپنی زندگی کے اچھے رنگ تو میں بھول ہی گئی ہوں ۔ میں مسکراتی ہوں ،ہم ساتھ چائے پیتے ہیں ،ایک جپھی لگاتے ہیں اور پھر وہ چلی جاتی ہیں ۔اکثر سوچتی ہوں اپنے نازک ناخنوں سے کھیلتی ، اچھے حالات میں ناشکری کرتی اچھی خاصی خوشحال خواتین شاید اس عورت کے غرور کا سامنا نہیں کر سکتیں جو سر پر اپنی چھت بھی نہ ہونے کے باوجود اس عمر میں بھی زندگی کو اپنے بل بوتے پر نہ صرف گزار رہی ہے بلکہ اور لوگوں کا بھی سہارا ہے ۔ہمیں ، ہماری آنے والی نسل کو ایسی بہت سی عورتوں کی ضرورت ہے ۔

💥❤️

#women #life #motivation

2 weeks ago | [YT] | 18

Rakhshanda Batool

جب آپ کو جن گ پر مبنی کہانیاں دیکھنے کا شوق ہو لیکن آپ لوگوں کو مر تا ہوا نہ دیکھ سکیں تو کیا کرنا چاہیے ؟
اور خاص طور پر وہ کہانیاں جن میں ہیرو ہی مر جاتے ہوں۔ ۔۔۔کتنی ہی دیر کے لیے کمرہ اداسی سے بھر جاتا ہے ۔
🍂

#war #fantasy #fiction #movies
#winter

3 weeks ago | [YT] | 2

Rakhshanda Batool

پچھلے سال ہمارے کالج کا پہلا بیچ رخصت ہوا ۔ اکثر کسی نہ کسی سلسلے میں کالج آنے والی سابقہ طالبات سے سلام دعا چلتی رہتی ہے ۔ مختلف خصوصیات کی بنا پر کچھ بچے یاد رہ جاتے ہیں ۔ کچھ اپنے ڈراموں کے باعث ، کچھ اپنی نالائقی کے سبب اور کچھ اپنے تابع داری کی وجہ سے (لائق بچوں کا نمبر یاد رہ جانے والوں میں بہت پیچھے ہے🙂)۔
آج صبح بینش دفتر آئی۔ وہی ایک سانس میں دس باتیں کہہ جانے والی عادت لیے ؛ آنکھیں کاجل اور خوابوں سے بھری ہوئیں ، سراپا محبت اور احترام لیکن قدرے جنونی لڑکی۔
"آپ نے مجھے پہچانا؟ میں بینش!"
"کیسی ہیں بینش؟ کیا بنا آپ کے خوابوں کا؟ آپ پولیس میں جانا چاہتی تھیں نا ؟"
"میں نے اپنے خواب بدل لیے۔ میں ٹوورزم پڑھوں گی ۔ یو کے کی ایک بہت اچھی یونیورسٹی میں میرا ایڈمیشن ہو گیا ہے۔ابھی ایئرپورٹ جارہی ہوں ، گھر والوں سے ضد کی کہ آپ سے مل کرجاؤں گی۔ اس سارے پروسیس کے دوران میں جب کبھی سوچتی کہ میں گاؤں کی ایک سادہ سی لڑکی ہوں ،میں کہاں باہر جا پاؤں گی ؛تو مجھے آپ یاد آجاتیں۔ آپ کہا کرتی تھیں تم لڑکیوں کو اپنی ویلیو کا اندازہ ہی نہیں ہے تم آسمان چھو سکتی ہو literally آسمان چھو سکتی ہو۔"
"اچھا اب بس ! سانس لو۔ پانی پیو گی ؟"
"نہیں بھائی باہر انتظار کر رہا ہے،بس دو منٹ اور آپ سے بات کروں گی ۔ میں آپ کے ساتھ ایک تصویر بنا سکتی ہوں؟ اور وہ تصویر آپ فیس بک پر لگائیں گی پلیز؟"
"فیس بک پر کیوں؟"
" کیونکہ میں آپ کے کالج کی پہلی سٹوڈنٹ ہوں جو باہر پڑھنے جا رہی ہے۔ اور میری خواہش ہے کہ آپ کی وہ پوسٹ میرے کالج کی ساری بچیاں دیکھیں ۔
اچھا مجھے کوئی نصیحت کریں ۔"
"نصیحت۔۔۔۔۔۔۔
بس جاؤ اور چھو لو آسمان !"
❤❤❤

3 weeks ago | [YT] | 7

Rakhshanda Batool

ایسی دھند اکثر خواب میں آتی ہے نا۔۔۔
کچھ یاد رہ جانے والے اور زیادہ بھول جانے والے خواب ۔
شعور اور لاشعور کے درمیان الجھے ہوئے کچھ منظر _ وقت کی پہنچ سے دور۔۔۔۔۔ پراسرار دھندلے لمحے۔ ۔ ۔
جو ہوتے ہیں اور نہیں بھی ہوتے ۔❤️

جہلم۔۔۔🍂🍂

#fog #dreamy #night #jhelum

1 month ago | [YT] | 7

Rakhshanda Batool

"ہم ماضی کی گٹھڑی میں بند لوگ ہیں۔۔ اپنی قدیم تاریخ، فرسودہ ہو چکے قصے کہانیوں اور فتوحات جنہیں ہم نے ہزاروں برس پیشتر حاصل کیا تھا، ان میں حنوط لوگ ہیں۔۔ ہمارے ذہنوں میں اب بھی کنیزوں کے غول ہیں سر قلم کرتی تلواروں کی پر فخر خون الودگی ہے اور غلام بھاگتے پھرتے ہیں مشعلیں تھامے ۔۔ انگریز قوم ابھی اگلے روز تک تقریبا پوری دنیا پر حکمران تھی، اس کی سلطنت پر سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا اور اب اگر غروب ہوتا ہے تو مجال ہے کسی کو کچھ ملال ہو، اپنے زریں عہد کی یاد میں سُبکیاں بھرتا پھرے ۔۔ جب کہ وہ صرف ایک قوم تھے، جزائر برطانیہ کے باشندے تھے اور ہم جو عرب بھی ہیں، منگول، ترک، ایرانی طورانی، افریقی، ہندوستانی آذربائی جانی، ازبک، ایغور، تاجک، قزاق وغیرہ تھے تو ہم سب نے صدیوں پیشتر نیل سے تابخاک کاشغر غلبہ حاصل کیا جو انگریزوں کی سلطنت کے مقابلے میں مونگ پھلی کے دانے کے برابر تھا اور اس غلبے کے خوابوں کو بھی گزرے صدیاں بیت چکیں اور تب بھی ماضی کی عظمتوں کا ماتم ۔۔ ہماری تاریخ، شاعری، ادب، داستانوں میں نوحہ کناں چلا اتا ہے ۔۔ ہمارے پتھروں کے قلعے کب کے ریت ہو چکے، ہمارے نیزے کب کے زنگ آلود ہو چکے، تیر ٹوٹ چکے، گھوڑے خاک ہو چکے لیکن ہم اج بھی ڈان کے خوتے کی مانند اپنے مریل گھوڑے پر سوار خیالی دشمنوں کو للکار رہے ہیں ۔۔"


مستنصر حسین تارڑ -- سفرنامہ: "لاہور سے یارقند"

2 months ago | [YT] | 11

Rakhshanda Batool

ان درختوں کے اس پار جو سنہری سورج ہے وہ اس ٹھنڈی سڑک کا آشنا ہے ۔

#literature #winter #viewers #fiction

2 months ago | [YT] | 3