شیطانی جزیرہ اور قرآن کی گواہی خواہشِ نفس کا بت اور تہذیبِ جدید کا اخلاقی جنازہ اے اہلِ ہوش! ذرا آنکھیں کھولو اور کان کھول کر سنو! خواہشِ نفس کوئی معمولی لغزش نہیں، یہ وہ خونی بت ہے جسے انسان خود تراشتا ہے، خود سجاتا ہے اور پھر اپنی عقل، غیرت اور ایمان کو اس کے قدموں میں ذبح کر دیتا ہے۔ جب نفس معبود بن جائے تو انسان انسان نہیں رہتا—وہ حیوان بنتا ہے، بلکہ اس سے بھی بدتر، شیطان کا عملی نمونہ بن جاتا ہے۔ قرآنِ مجید نے اس فتنہ کو صدیوں پہلے بے نقاب کر دیا تھا، مگر افسوس! آج کی نام نہاد مہذب دنیا نے اسی فتنہ کو ترقی، آزادی اور روشن خیالی کا نام دے کر گلے لگا لیا ہے۔ آج میں دوران تلاوت سورۂ فرقان کی آیات 43 اور 44 پر پہنچا،اور غور و فکر کیا تو یہ تہذیبِ جدید کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ محسوس ہوا،اور اس پر زبردست گواہی،اللہ کے معجز کلام نے دو جملوں میں پوری بات ہی سمجھا دی، أَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ أَفَأَنتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَكِيلًاُُ ترجمہ؛کیا آپ نے اس شخص کی حالت پر غور کیا ہے؟جس نے اپنی نفسانی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے،کیا آپ ایسے شخص کو (ہدایت پر لانے)کی ذمہ داری لے سکتے ہو؟ أَمْ تَحْسَبُ أَنَّ أَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُونَ أَوْ يَعْقِلُونَ ۚ إِنْ هُمْ إِلَّا كَالْأَنْعَامِ ۖ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيلًا ترجمہ؛کیا تم خیال کرتے ہو ان میں سے اکثر لوگ سنتے ہیں اورسمجھتے ہیں؟یہ تو محض چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر یہ سوال کسی فرد سے نہیں، پوری مغربی تہذیب سے ہے،اس کے ایوانوں سے ہے، اس کے دانشوروں، ارب پتیوں اور حکمرانوں سے ہے! اور پھر دیکھو! ایپسٹین کے جزیرے نے وہ سب کچھ عیاں کر دیا جسے تہذیب کے خوشنما غلاف میں برسوں چھپایا گیا تھا۔ وہ جزیرہ کوئی حادثہ نہیں تھا، وہ اس تہذیب کا اصل چہرہ تھا۔ وہاں نہ کوئی اخلاق تھا، نہ کوئی قانون، نہ کوئی انسانیت—وہاں صرف نفس تھا، حیوانیت تھی، اور شیطانی رقص تھا۔ انسانی جسموں میں لپٹے ہوئے درندے، جن کے دل مردہ اور ضمیر دفن ہو چکے تھے! اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو چوپایوں سے بھی بدتر قرار دیا ہے—اور سن لو! یہ کوئی مبالغہ نہیں، یہ فیصلۂ ربانی ہے۔ چوپائے اپنے محسن کو پہچانتے ہیں، فائدہ اور نقصان کی تمیز رکھتے ہیں، مگر یہ تہذیب جدیدکے پجاری؟ یہ وہ بدبخت ہیں جو نہ احسان سمجھتے ہیں، نہ حد پہچانتے ہیں، نہ حلال و حرام کی تمیز رکھتے ہیں۔ ان کے کان ہیں مگر حق سننے کے لیے نہیں، آنکھیں ہیں مگر عبرت دیکھنے کے لیے نہیں، دل ہیں مگر خوفِ خدا سے خالی! یہ قرآن کا فیصلہ ہے—اور قرآن جب فیصلہ سناتا ہے تو تاریخ اس کی گواہی دیتی ہے۔ آج سوال یہ نہیں کہ دنیا کہاں جا رہی ہے، اصل سوال یہ ہے کہ دنیا کس کی بندگی کر رہی ہے؟ اگر معبود اللہ نہیں،اگر قانون وحی نہیں،اگر رہنما عقلِ سلیم نہیں—تو پھر انجام وہی ہوتا ہے جو ایپسٹین کے جزیرے پر نظر آیا: اخلاق کی لاش، تہذیب کا جنازہ، اور انسانیت کی تذلیل! عرب کے مشرکین اور دیگر شرکیہ مذاہب میں کبھی ڈائریکٹ شیطان کی عبادت نہیں ہوئی ہے،اب امریکہ میں شیطن کا مجسمہ بناکر شیطان کی عبادت کی جاتی ہے، اے اہلِ ایمان! یہ وقت خاموشی کا نہیں، یہ وقت حق کی گواہی کا ہے۔ یہ وقت نفس کے بت کو پاش پاش کرنے کا ہے، یہ وقت اس جھوٹی تہذیب کے خلاف اعلانِ بغاوت کا ہے جو انسان کو آزادی کے نام پر حیوان بنا رہی ہے۔ نجات صرف ایک ہے: خواہش کو معبود بنانے کے بجائے، اسے اللہ کے حکم کے تابع کر دو۔ ورنہ یاد رکھو— نفس کا بت کبھی وفا نہیں کرتا، وہ ہمیشہ اپنے پجاریوں کو رسوائی، ذلت اور تباہی کے سوا کچھ نہیں دیتا!
اللہ تعالیٰ نے رزق کے 16 دروازے مقرر کئے ہیں اور اس کی چابیاں بھی بنائی ہیں۔ جس نے یہ چابیاں حاصل کر لیں وہ کبھی تنگدست نہیں رہے گا۔ ۔ * پہلا دروازہ نماز ہے۔ جو لوگ نماز نہیں پڑھتے ان کے رزق سے برکت اٹھا دی جاتی ہے۔ وہ پیسہ ہونے کے باوجود بھی پریشان رہتے ہیں۔
* دوسرا دروازہ استغفار ہے۔ جو انسان زیادہ سے زیادہ استغفار کرتا ہے توبہ کرتا ہے اس کے رزق میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اللہ ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے کبھی اس نے سوچا بھی نہیں ہوتا۔
* تیسرا دروازہ صدقہ ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ تم اللہ کی راہ میں جو خرچ کرو گے اللہ اس کا بدلہ دے کر رہے گا، انسان جتنا دوسروں پر خرچ کرے گا اللہ اسے دس گنا بڑھا کر دے گا
* چوتھا دروازہ تقویٰ اختیار کرنا ہے۔ جو لوگ گناہوں سے دور رہتے ہیں اللہ اس کیلئے آسمان سے رزق کے دروازے کھول دیتے ہیں۔
* پانچواں دروازہ کثرتِ نفلی عبادت ہے۔ جو لوگ زیادہ سے زیادہ نفلی عبادت کرتے ہیں اللہ ان پر تنگدستی کے دروازے بند کر دیتے ہیں۔ اللہ کہتا ہے اگر تو عبادت میں کثرت نہیں کرے گا تو میں تجھے دنیا کے کاموں میں الجھا دوں گا، لوگ سنتوں اور فرض پر ہی توجہ دیتے ہیں نفل چھوڑ دیتے ہیں جس سے رزق میں تنگی ہوتی ہے
٭ چھٹا دروازہ حج اور عمرہ کی کثرت کرنا ، حدیث میں آتا ہے حج اور عمرہ گناہوں اور تنگدستی کو اس طرح دور کرتے ہیں جس طرح آگ کی بھٹی سونا چاندی کی میل دور کر دیتی ہے
٭ ساتواں دروازہ رشتہ داروں کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش آنا۔ ایسے رشتہ داروں سے بھی ملتے رہنا جو آپ سے قطع تعلق ہوں۔
٭ آٹھواں دروازہ کمزوروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا ہے۔ غریبوں کے غم بانٹنا، مشکل میں کام آنا اللہ کو بہت پسند ہے
٭ نوواں دروازہ اللہ پر توکل ہے۔ جو شخص یہ یقین رکھے کہ اللہ دے گا تو اسے اللہ ضرور دے گا اور جو شک کرے گا وہ پریشان ہی رہے گا
٭دسواں دروازہ شکر ادا کرنا ہے۔ انسان جتنا شکر ادا کرے گا اللہ رزق کے دروازے کھولتا چلا جائے گا
٭ گیارہواں دروازہ ہے گھر میں مسکرا کر داخل ہونا ،، مسکرا کر داخل ہونا سنت بھی ہے حدیث میں آتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ فرماتا ہے کہ رزق بڑھا دوں گا جو شخص گھر میں داخل ہو اور مسکرا کر سلام کرے
٭بارہواں دروازہ ماں باپ کی فرمانبرداری کرنا ہے۔ ایسے شخص پر کبھی رزق تنگ نہیں ہوتا
٭ تیرہواں دروازہ ہر وقت باوضو رہنا ہے۔ جو شخص ہر وقت نیک نیتی کیساتھ باوضو رہے تو اس کے رزق میں کمی نہیں ہوتی
٭چودہواں دروازہ چاشت کی نماز پڑھنا ہے جس سے رزق میں برکت پڑھتی ہے۔ حدیث میں ہے چاشت کی نماز رزق کو کھینچتی ہے اور تندگستی کو دور بھگاتی ہے
٭ پندرہواں دروازہ ہے روزانہ سورہ واقعہ پڑھنا ۔۔ اس سے رزق بہت بڑھتا ہے
٭ سولواں دروازہ ہے اللہ سے دعا مانگنا۔ جو شخص جتنا صدق دل سے اللہ سے مانگتا ہے اللہ اس کو بہت دیتا ہے
اللّه ہمیں ان سب پے اخلاص کے ساتھ عمل کی توفیق آتا فرمائے (آمین)
انسان زمینی مخلوق نہیں ھے: امریکی ایکولوجسٹ ڈاکٹر ایلس سِلور کی تہلکہ خیز ریسرچ: ارتقاء (Evolution) کے نظریات کا جنازہ اٹھ گیا: ارتقائی سائنسدان لا جواب:
انسان زمین کا ایلین ہے ۔
ڈاکٹر ایلیس سِلور(Ellis Silver)نے اپنی کتاب (Humans are not from Earth) میں تہلکہ خیز دعوی کیا ہے کہ انسان اس سیارے زمین کا اصل رہائشی نہیں ہے بلکہ اسے کسی دوسرے سیارے پر تخلیق کیا گیا اور کسی وجہ سے اس کے اصل سیارے سے اس کے موجودہ رہائشی سیارے زمین پر پھینک دیا گیا۔
ڈاکٹر ایلیس جو کہ ایک سائنسدان محقق مصنف اور امریکہ کا نامور ایکالوجسٹ(Ecologist)ھے اس کی کتاب میں اس کے الفاظ پر غور کیجئیے۔ زھن میں رھے کہ یہ الفاظ ایک سائنسدان کے ہیں جو کسی مذھب پر یقین نہیں رکھتا۔
اس کا کہنا ھے کہ انسان جس ماحول میں پہلی بار تخلیق کیا گیا اور جہاں یہ رھتا رھا ھے وہ سیارہ ، وہ جگہ اس قدر آرام دہ پرسکون اور مناسب ماحول والی تھی جسے وی وی آئی پی کہا جا سکتا ھے وہاں پر انسان بہت ھی نرم و نازک ماحول میں رھتا تھا اس کی نازک مزاجی اور آرام پرست طبیعت سے معلوم ھوتا ھے کہ اسے اپنی روٹی روزی کے لئے کچھ بھی تردد نہین کرنا پڑتا تھا ، یہ کوئی بہت ہی لاڈلی مخلوق تھی جسے اتنی لگژری لائف میسر تھی ۔ ۔ وہ ماحول ایسا تھا جہاں سردی اور گرمی کی بجائے بہار جیسا موسم رھتا تھا اور وہاں پر سورج جیسے خطرناک ستارے کی تیز دھوپ اور الٹراوائلیٹ شعاعیں بالکل نہیں تھیں جو اس کی برداشت سے باھر اور تکلیف دہ ھوتی ہیں۔
تب اس مخلوق انسان سے کوئی غلطی ہوئی ۔۔
اس کو کسی غلطی کی وجہ سے اس آرام دہ اور عیاشی کے ماحول سے نکال کر پھینک دیا گیا تھا ۔جس نے انسان کو اس سیارے سے نکالا لگتا ہے وہ کوئی انتہائی طاقتور ہستی تھی جس کے کنٹرول میں سیاروں ستاروں کا نظام بھی تھا ۔۔۔ وہ جسے چاہتا ، جس سیارے پر چاہتا ، سزا یا جزا کے طور پر کسی کو بھجوا سکتا تھا۔ وہ مخلوقات کو پیدا کرنے پر بھی قادر تھا۔
ڈاکٹر سلور کا کہنا ہے کہ ممکن ہے زمین کسی ایسی جگہ کی مانند تھی جسے جیل قرار دیا جاسکتا ھے ۔ یہاں پر صرف مجرموں کو سزا کے طور پر بھیجا جاتا ہو۔ کیونکہ زمین کی شکل۔۔ کالا پانی جیل کی طرح ہے ۔۔۔ خشکی کے ایک ایسے ٹکڑے کی شکل جس کے چاروں طرف سمندر ہی سمندر ھے ، وہاں انسان کو بھیج دیا گیا۔
ڈاکٹر سلور ایک سائنٹسٹ ہے جو صرف مشاہدات کے نتائج حاصل کرنے بعد رائے قائم کرتا ہے ۔ اس کی کتاب میں سائنسی دلائل کا ایک انبار ہے جن سے انکار ممکن نہیں۔ اس کے دلائل کی بڑی بنیاد جن پوائنٹس پر ھے ان میں سے چند ایک ثابت شدہ یہ ہیں۔
نمبر ایک ۔ زمین کی کش ثقل اور جہاں سے انسان آیا ہے اس جگہ کی کشش ثقل میں بہت زیادہ فرق ہے ۔ جس سیارے سے انسان آیا ہے وہاں کی کشش ثقل زمین سے بہت کم تھی ، جس کی وجہ سے انسان کے لئے چلنا پھرنا بوجھ اٹھا وغیرہ بہت آسان تھا۔ انسانوں کے اندر کمر درد کی شکایت زیادہ گریوٹی کی وجہ سے ہے ۔
نمبر دو ؛انسان میں جتنے دائمی امراض پائے جاتے ہیں وہ باقی کسی ایک بھی مخلوق میں نہیں جو زمین پر بس رہی ہے ۔ ڈاکٹر ایلیس لکھتا ہے کہ آپ اس روئے زمین پر ایک بھی ایسا انسان دکھا دیجئیے جسے کوئی ایک بھی بیماری نہ ہو تو میں اپنے دعوے سے دستبردار ہوسکتا ہوں جبکہ میں آپ کو ھر جانور کے بارے میں بتا سکتا ہوں کہ وہ وقتی اور عارضی بیماریوں کو چھوڑ کر کسی ایک بھی مرض میں ایک بھی جانور گرفتار نہیں ہے ۔
نمبر تین ؛ ایک بھی انسان زیادہ دیر تک دھوپ میں بیٹھنا برداشت نہیں کر سکتا بلکہ کچھ ہی دیر بعد اس کو چکر آنے لگتے ہیں اور سن سٹروک کا شکار ہوسکتا ہے جبکہ جانوروں میں ایسا کوئی ایشو نہیں ھے مہینوں دھوپ میں رھنے کے باوجود جانور نہ تو کسی جلدی بیماری کا شکار ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی اور طرح کے مر ض میں مبتلا ہوتے ہیں جس کا تعلق سورج کی تیز شعاعوں یا دھوپ سے ہو۔
نمبر چار ؛ ہر انسان یہی محسوس کرتا ہے اور ہر وقت اسے احساس رہتا ہے کہ اس کا گھر اس سیارے پر نہیں۔ کبھی کبھی اس پر بلاوجہ ایسی اداسی طاری ہوجاتی ہے جیسی کسی پردیس میں رہنے والے پر ہوتی ہے چاہے وہ بیشک اپنے گھر میں اپنے قریبی خونی رشتے داروں کے پاس ہی کیوں نا بیٹھا ہوں۔
نمبر پانچ زمین پر رہنے والی تمام مخلوقات کا ٹمپریچر آٹومیٹک طریقے سے ہر سیکنڈ بعد ریگولیٹ ہوتا رہتا ہے یعنی اگر سخت اور تیز دھوپ ھے تو ان کے جسم کا درجہ حرارت خود کار طریقے سے ریگولیٹ ہو جائے گا، جبکہ اسی وقت اگر بادل آ جاتے ہیں تو ان کے جسم کا ٹمپریچر سائے کے مطابق ہو جائے گا جبکہ انسان کا ایسا کوئی سسٹم نہیں بلکہ انسان بدلتے موسم اور ماحول کے ساتھ بیمار ھونے لگ جائے گا۔ موسمی بخار کا لفظ صرف انسانوں میں ھے۔
نمبر چھ ؛انسان اس سیارے پر پائے جانے والے دوسرے جانداروں سے بہت مختلف ہے ۔ اسکا ڈی این اے اور جینز کی تعداد اس سیارہ زمین پہ جانے والے دوسرے جانداروں سے بہت مختلف اور بہت زیادہ ہے۔
نمبر سات: زمین کے اصل رہائشی (جانوروں) کو اپنی غذا حاصل کرنا اور اسے کھانا مشکل نہیں، وہ ہر غذا ڈائریکٹ کھاتے ہیں، جبکہ انسان کو اپنی غذا کے چند لقمے حاصل کرنے کیلیئے ہزاروں جتن کرنا پڑتے ہیں، پہلے چیزوں کو پکا کر نرم کرنا پڑتا ھے پھر اس کے معدہ اور جسم کے مطابق وہ غذا استعمال کے قابل ھوتی ھے، اس سے بھی ظاہر ھوتا ھے کہ انسان زمین کا رہنے والا نہیں ھے ۔ جب یہ اپنے اصل سیارے پر تھا تو وہاں اسے کھانا پکانے کا جھنجٹ نہیں اٹھانا پڑتا تھا بلکہ ہر چیز کو ڈائریکٹ غذا کیلیئے استعمال کرتا تھا۔ مزید یہ اکیلا دو پاؤں پر چلنے والا ھے جو اس کے یہاں پر ایلین ھونے کی نشانی ھے۔
نمبر آٹھ: انسان کو زمین پر رہنے کیلیے بہت نرم و گداز بستر کی ضرورت ھوتی ھے جبکہ زمین کے اصل باسیوں یعنی جانوروں کو اس طرح نرم بستر کی ضرورت نہیں ھوتی۔ یہ اس چیز کی علامت ھے کہ انسان کے اصل سیارے پر سونے اور آرام کرنے کی جگہ انتہائی نرم و نازک تھی جو اس کے جسم کی نازکی کے مطابق تھی ۔
نمبر نو: انسان زمین کے سب باسیوں سے بالکل الگ ھے لہذا یہ یہاں پر کسی بھی جانور (بندر یا چمپینزی وغیرہ) کی ارتقائی شکل نہیں ھے بلکہ اسے کسی اور سیارے سے زمین پر کوئی اور مخلوق لا کر پھینک گئی ھے ۔
انسان کو جس اصل سیارے پر تخلیق کیا گیا تھا وہاں زمین جیسا گندا ماحول نہیں تھا، اس کی نرم و نازک جلد جو زمین کے سورج کی دھوپ میں جھلس کر سیاہ ہوجاتی ہے اس کے پیدائشی سیارے کے مطابق بالکل مناسب بنائی گئی تھی ۔ یہ اتنا نازک مزاج تھا کہ زمین پر آنے کے بعد بھی اپنی نازک مزاجی کے مطابق ماحول پیدا کرنے کی کوششوں میں رھتا ھے۔جس طرح اسے اپنے سیارے پر آرام دہ اور پرتعیش بستر پر سونے کی عادت تھی وہ زمین پر آنے کے بعد بھی اسی کے لئے اب بھی کوشش کرتا ھے کہ زیادہ سے زیادہ آرام دہ زندگی گزار سکوں۔ جیسے خوبصورت قیمتی اور مضبوط محلات مکانات اسے وہاں اس کے ماں باپ کو میسر تھے وہ اب بھی انہی جیسے بنانے کی کوشش کرتا ہے ۔ جبکہ باقی سب جانور اور مخلوقات اس سے بے نیاز ہیں۔ یہاں زمین کی مخلوقات عقل سے عاری اور تھرڈ کلاس زندگی کی عادی ہیں جن کو نہ اچھا سوچنے کی توفیق ہے نہ اچھا رہنے کی اور نہ ہی امن سکون سے رھنے کی۔ انسان ان مخلوقات کو دیکھ دیکھ کر خونخوار ہوگیا۔ جبکہ اس کی اصلیت محبت فنون لطیفہ اور امن و سکون کی زندگی تھی ۔۔یہ ایک ایسا قیدی ہے جسے سزا کے طور پر تھرڈ کلاس سیارے پر بھیج دیا گیا تاکہ اپنی سزا کا دورانیہ گزار کر واپس آ جائے ۔ڈاکٹر ایلیس کا کہنا ہے کہ انسان کی عقل و شعور اور ترقی سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ایلین کے والدین کو اپنے سیارے سے زمین پر آئے ہوئے کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا ، ابھی کچھ ہزار سال ہی گزرے ہیں یہ ابھی اپنی زندگی کو اپنے پرانے سیارے کی طرح لگژری بنانے کے لئے بھرپور کوشش کر رہاہے ، کبھی گاڑیاں ایجاد کرتا ہے ، کبھی موبائل فون اگر اسے آئے ہوئے چند لاکھ بھی گزرے ہوتے تو یہ جو آج ایجادات نظر آ رہی ہیں یہ ہزاروں سال پہلے وجود میں آ چکی ہوتیں ، کیونکہ میں اور تم اتنے گئے گزرے نہیں کہ لاکھوں سال تک جانوروں کی طرح بیچارگی اور ترس کی زندگی گزارتے رہتے۔
ڈاکٹر ایلیس سِلور کی کتاب میں اس حوالے سے بہت کچھ ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس کے دلائل کو ابھی تک کوئی جھوٹا نہیں ثابت کر سکا۔۔
میں اس کے سائنسی دلائل اور مفرو ضوں پر غور کر رہا تھا۔۔ یہ کہانی ایک سائنسدان بیان کر رہا ھے یہ کوئی کہانی نہیں بلکہ حقیقی داستان ہے جسے انسانوں کی ہر الہامی کتاب میں بالکل اسی طرح بیان کیا گیا ہے۔ میں اس پر اس لئے تفصیل نہیں لکھوں گا کیونکہ آپ سبھی اپنے باپ آدم ؑ اور حوا ؑ کے قصے کو اچھی طرح جانتے ہیں۔۔ سائنس اللہ کی طرف چل پڑی ہے ۔۔ سائنسدان وہ سب کہنے پر مجبور ھوگئے ہیں جو انبیاء کرام اپنی نسلوں کو بتاتے رہے تھے ۔ میں نے نسل انسانی پر لکھنا شروع کیا تھا۔ اب اس تحریر کے بعد میں اس سلسلے کو بہتر انداز میں آگے بڑھا سکوں گا۔۔
ارتقاء کے نظریات کا جنازہ اٹھ چکا ہے ۔۔ اب انسانوں کی سوچ کی سمت درست ہو رہی ھے ۔۔ یہ سیارہ ہمارا نہین ہے ۔یہ میں نہیں کہتا بلکہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیشمار بار بتا دیا تھا۔ اللہ پاک نے اپنی عظیم کتاب قران حکیم میں بھی بار بار لاتعداد مرتبہ یہی بتا دیا کہ اے انسانوں یہ دنیا کی زندگی تمہاری آزمائش کی جگہ ہے ۔ جہاں سے تم کو تمہارے اعمال کے مطابق سزا و جزا ملے گی ۔
🐒اصحاب سبت کی کہانی سمندر کے کنارے واقع ایک بستی جسے "ایلہ" کہتے تھے، جو موجودہ بحر احمر کے ساحل پر، مدین اور طور کے درمیان واقع تھی، میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا جس کا ذکر اللہ نے اپنے کلام میں کیا ہے:
> "اور ان سے اس بستی کا حال پوچھو جو سمندر کے کنارے تھی۔ جب وہ ہفتہ کے دن حد سے بڑھنے لگے تھے، اور ان کی مچھلیاں ہفتے کے دن ان کے سامنے سطح آب پر ظاہر ہو جاتی تھیں، اور جب ہفتہ کا دن نہ ہوتا تو وہ ان کے پاس نہ آتی تھیں۔ اس طرح ہم ان کی آزمائش کر رہے تھے کیونکہ وہ نافرمان تھے۔" (سورۃ الاعراف: 163)
یہاں "اصحاب سبت" رہتے تھے، جو یہودی قوم میں سے تھے۔ اللہ نے ان کے لئے ہفتے کا دن عبادت کے لئے مخصوص کیا تھا اور انہیں دنیا کے امور میں مشغول ہونے سے منع کیا تھا، کیونکہ وہ باقی دنوں میں عبادت کی پابندی نہیں کرتے تھے۔ بنی اسرائیل کو ہفتے کے دن تجارت، صنعت اور مچھلی پکڑنے سے روکا گیا تھا۔ یہ اللہ کا ایک امتحان تھا، کہ ہفتے کے دن مچھلیوں کی کثرت ہونے لگی، مگر وہ صبر نہ کر سکے اور انہوں نے حیلے سے انہیں پکڑنا شروع کر دیا۔
ابن عباس اور دوسرے علماء کے مطابق، یہودی اس زمانے میں ہفتے کے دن کی حرمت پر عمل پیرا تھے۔ مچھلیاں اس دن ان کی طرف امن و سکون سے آجاتیں کیونکہ وہ انہیں باقی دنوں میں پکڑتے تھے۔ اللہ نے انہیں آزمائش میں ڈالا اور ہفتے کے دن مچھلیوں کی کثرت سے انہیں آزمایا۔ جب انہوں نے یہ دیکھا تو انہوں نے مچھلیاں پکڑنے کے لئے حیلے کا سہارا لیا۔
ایک دن، گاؤں کے ایک فرد کو مچھلی کھانے کی خواہش ہوئی، تو شیطان نے اسے ایک حیلہ سکھایا۔ وہ ہفتے کے دن سمندر کے کنارے آیا اور ایک بڑی مچھلی کو دیکھ کر اس کی دم کو رسی سے باندھ کر کنارے پر لگا دیا، اور شام کو واپس آ کر مچھلی کو لے کر چلا گیا اور اسے بھون کر کھایا۔ جب اس کے ہمسائے اس سے پوچھنے آئے تو اس نے کہا کہ یہ تو محض ایک مچھلی کی کھال ہے جو اس نے بھون لی ہے۔ اگلے ہفتے اس نے یہی کام پھر کیا، اور دوسروں کو بھی بتا دیا، تو انہوں نے بھی اس کی تقلید شروع کر دی۔
بنی اسرائیل نے ہفتے کے دن مچھلی پکڑنے کے لئے نت نئے حیلے ایجاد کئے۔ بعض نے جمعہ کے دن سمندر کے ساتھ جڑے ہوئے گڑھے کھودے تاکہ ہفتے کے دن مچھلیاں ان گڑھوں میں جمع ہو جائیں اور پھر آسانی سے پکڑی جا سکیں۔ یہ کام عام ہو گیا، یہاں تک کہ لوگوں نے علانیہ مچھلی پکڑ کر بازار میں بیچنی شروع کر دیں۔ جب فاسقوں نے علانیہ اس طرح مچھلی پکڑنا شروع کیا، تو بنی اسرائیل کے علماء نے انہیں روکا اور ڈرایا، مگر وہ باز نہ آئے۔ چنانچہ نیک لوگوں نے ان سے الگ ہو کر ایک دیوار بنا لی اور ان کے ساتھ رہنا ترک کر دیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
> "اور جب ان میں سے ایک جماعت نے کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا انہیں سخت عذاب دینے والا ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ اس لئے ہے کہ تمہارے رب کے سامنے معذرت کریں اور شاید کہ وہ پرہیزگار بن جائیں۔" (سورۃ الاعراف: 164)
چنانچہ یہ قوم تین گروہوں میں بٹ گئی؛ ایک وہ جو نافرمانی کرتے ہوئے ہفتے کے دن مچھلی پکڑنے لگے، ان کی تعداد تقریباً ستر ہزار تھی۔ دوسرا گروہ ان کو روکنے والا تھا جن کی تعداد بارہ ہزار تھی، اور تیسرا گروہ وہ تھا جو نہ تو گناہ کرتے اور نہ روکتے تھے۔
پھر رات کو اللہ کا عذاب آیا اور فاسقوں کو سزا کے طور پر نوجوانوں کو بندر اور بوڑھی عورتوں کو خنزیر بنا دیا گیا۔ صبح جب نیک لوگ اپنے کاموں پر گئے تو فاسقوں کو وہاں موجود نہ پا کر حیران ہو گئے۔ جب انہوں نے دیوار پر چڑھ کر جھانکا تو دیکھا کہ فاسق بندر اور خنزیر بن گئے ہیں، اور آوازیں نکال رہے ہیں۔
انہوں نے ان کے دروازے کھولے تو ہر بندر اپنے قریبی انسان کو دیکھ کر اس کے کپڑے سونگھتا اور روتا تھا۔
مسخ شدہ لوگ تین دن تک زندہ رہے، نہ کچھ کھایا، نہ پیا اور نہ ہی ان کی نسل چلی۔ اس طرح ان کی موت ہو گئی اور وہ آنے والی قوموں کے لئے عبرت کا نشان بن گئے۔
:بندگی کا امتحان: نوح علیہ السلام کشتی بنا رہے تھے، مگر وہاں، جہاں پانی کا نام و نشان نہ تھا۔ گرد و پیش زمین خشک تھی آسمان بلکل صاف، نہ بادل تھے نہ بارش کی کوئی آہٹ۔ لیکن نوحؑ کے کانوں میں وحی کی بازگشت تھی. "ایک طوفان آنے والا ہے۔ زمین ڈوب جائے گی۔ سرکش غرق ہوں گے۔" یہ عام آدمی کے لیے ایک دیوانے کا خواب ہو سکتا تھا، مگر نوحؑ کے لیے یہ رب کا وعدہ تھا۔ اللہ کا حکم تھا: "کشتی بناؤ" اور وہ بنانے لگے۔ درختوں کو کاٹا گیا، لکڑیاں جوڑی گئیں، کیل ٹھونکے گئے۔ اور وہ تین منزلہ کشتی خشکی پر اٹھنے لگی۔ قوم کے سردار روز گزرتے، ہنستے، طعنے دیتے، اور کہتے: "کیا سمندر اب تمہارے خوابوں سے نکلے گا؟" نوحؑ نے جواب دیا، جو قرآن میں آج بھی محفوظ ہے: "وَيَصۡنَعُالۡفُلۡكَوَكُلّمَا مَرّعَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ سَخِرُوۡا مِنۡهُ ؕ قَالَاِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنّا فَاِنّا نَسۡخَرُمِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَؕ" (سورہ ہود: 38) "اگر تم ہم پر ہنستے ہو، تو ہم بھی تم پر ہنسیں گے، جیسے تم ہنستے ہو۔" یہ کشتی نہیں بن رہی تھی، یہ یقین لکڑی سے جوڑ بنا رہا تھا ، توکل کے کیلوں سے جُڑی ہوئی یہ کشتی، صبر کے پانی سے سیراب کی گئی تھی۔ نوحؑ نے قوم کے قہقہوں کو نہیں سنا، صرف رب کے حکم کو سنا۔ طوفان آیا۔ وہی زمین جسے لوگ خشک سمجھتے تھے، سمندر بن گئی۔ جو کل مذاق کر رہے تھے، آج مدد کیلئے چیخ رہے تھے۔ لیکن وقت گزر چکا تھا۔ دروازہ بند ہو چکا تھا۔ نجات صرف اُس کشتی میں تھی، جو وقت پر اللہ کے حکم پر بنائی گئی تھی۔ نوحؑ علیہ السلام پیغمبر تھے ، مگر ہم خاتم النبیین ﷺ کے اُمتی ہیں۔ ہمارے لیے بھی احکام ہیں، ہدایات ہیں، اور کچھ طوفان ہمارے ایمان، وقت، نسل، اور اقدار کو بہا لے جانے کے لیے تیار کھڑے ہیں۔ آج ہمیں بھی خشکی پر اپنی کشتی بنانی ہے محنت کی، دعا کی، علم کی، اور نیت کی۔ بہت مذاق اڑے گا رکاوٹیں آئیں گی، تاخیر بھی ہوگی۔ مگر حکم ہو چکا ہے۔ کشتی بنانی ہے۔ اپنے ایمان کو بچانا ہے. پانی کا انتظار تو بس ڈوبنے کا دوسرا نام ہے۔ یہ ایمان کا سفر ہے. یہی بندگی کا امتحان ہے.!!!
*اصحابِ کہف کا کتا کیوں نہیں پلٹا گیا؟* ہم نے سورۃ الکہف کو متعدد بار پڑھا ہوگا، مگر شاید کبھی اس نکتے پر غور نہ کیا ہو کہ اصحابِ کہف (غار کے نیک نوجوان) سوتے ہوئے دائیں بائیں کروٹیں بدلتے تھے، جبکہ ان کا کتا ایک ہی حالت میں بیٹھا رہا – اور نہ کبھی کروٹ بدلی، نہ اس کا جسم خراب ہوا! طبی لحاظ سے انسان کو سوتے ہوئے اگر ایک ہی پوزیشن میں چھوڑ دیا جائے تو اس کے جسم پر زخم (bedsores) بننے لگتے ہیں، اسی لیے اللہ نے فرمایا: “وَنُقَلِّبُهُمْ ذاتَ اليَمِينِ وذاتَ الشِّمالِ” یعنی ہم انہیں دائیں اور بائیں کروٹ دلواتے رہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کتا کیوں نہیں پلٹا گیا؟ یہ سوال ایک جرمن طبیب کے دل میں بیٹھ گیا۔ وہ ایک سفر کے دوران ایک نوجوان سے قرآن کا ترجمہ حاصل کرتا ہے۔ (اگرچہ نیت یہ تھی کہ بعد میں پھینک دے گا)، مگر طیارے میں بوریت کے باعث وہ قرآن کھول کر پڑھتا ہے، اور سورۃ الکہف کی آیات 17 اور 18 پر آ کر رک جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے: یہ تو میں سمجھ گیا کہ نوجوانوں کا کروٹ لینا ان کے جسم کی حفاظت کے لیے تھا، اور سورج کی شعاعیں بھی براہِ راست نہ پڑ کر ایک خاص زاویے سے غار میں داخل ہوتی تھیں جو کہ طبی طور پر ایک مکمل ہوا دار اور صحت مند ماحول کی علامت ہے۔ مگر ورطہ حیرت میں اسے اس بات نے ڈالا کہ کتا 309 سال تک ایک ہی پوزیشن میں رہا، نہ کروٹ بدلی، نہ جسم گل سڑا؟ اس نے کتے کی جلد پر تحقیق شروع کر سی تحقیق مکمل ہوئی تو پایا کہ: کتوں کی جلد کے نیچے مخصوص غدود (glands) ہوتے ہیں جو ایسی قدرتی رطوبت خارج کرتے ہیں جو جلد کو سڑنے سے بچاتی ہے، جب تک کہ جسم میں زندگی باقی ہو۔ یہ سائنسی حقیقت قرآن کی ایک چھوٹی سی آیت میں صدیوں پہلے بیان کی گئی تھی۔ یہی نکتہ اس ڈاکٹر کے دل میں ایمان جگا گیا اور وہ مسلمان ہو گیا۔ بے شک قرآن پاک میں ہر چیز کا علم ہے اللہ تعالی ہمیں سیکھ اور سمجھ کر قرآن پاک پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!
جن کی قبروں پر روز جاکر بچے مانگے جاتے ہیں سجدے کیے جاتے ہیں حاجتیں مانگی جاتی ہیں۔ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر ان کے پاس قدرت او طاقت ہوتی تو آج کم از کم سیلاب سے اپنی مزار کو بچالیتے۔حاجت روا اور مشکل کشاء صرف اور صرف اللہ کی ذات ہے۔
Quran786Hadees
شیطانی جزیرہ اور قرآن کی گواہی
خواہشِ نفس کا بت اور تہذیبِ جدید کا اخلاقی جنازہ
اے اہلِ ہوش! ذرا آنکھیں کھولو اور کان کھول کر سنو!
خواہشِ نفس کوئی معمولی لغزش نہیں، یہ وہ خونی بت ہے جسے انسان خود تراشتا ہے، خود سجاتا ہے اور پھر اپنی عقل، غیرت اور ایمان کو اس کے قدموں میں ذبح کر دیتا ہے۔ جب نفس معبود بن جائے تو انسان انسان نہیں رہتا—وہ حیوان بنتا ہے، بلکہ اس سے بھی بدتر، شیطان کا عملی نمونہ بن جاتا ہے۔
قرآنِ مجید نے اس فتنہ کو صدیوں پہلے بے نقاب کر دیا تھا، مگر افسوس! آج کی نام نہاد مہذب دنیا نے اسی فتنہ کو ترقی، آزادی اور روشن خیالی کا نام دے کر گلے لگا لیا ہے۔ آج میں دوران تلاوت سورۂ فرقان کی آیات 43 اور 44 پر پہنچا،اور غور و فکر کیا تو یہ تہذیبِ جدید کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ محسوس ہوا،اور اس پر زبردست گواہی،اللہ کے معجز کلام نے دو جملوں میں پوری بات ہی سمجھا دی،
أَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ أَفَأَنتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَكِيلًاُُ
ترجمہ؛کیا آپ نے اس شخص کی حالت پر غور کیا ہے؟جس نے اپنی نفسانی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے،کیا آپ ایسے شخص کو (ہدایت پر لانے)کی ذمہ داری لے سکتے ہو؟
أَمْ تَحْسَبُ أَنَّ أَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُونَ أَوْ يَعْقِلُونَ ۚ إِنْ هُمْ إِلَّا كَالْأَنْعَامِ ۖ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيلًا
ترجمہ؛کیا تم خیال کرتے ہو ان میں سے اکثر لوگ سنتے ہیں اورسمجھتے ہیں؟یہ تو محض چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر
یہ سوال کسی فرد سے نہیں، پوری مغربی تہذیب سے ہے،اس کے ایوانوں سے ہے، اس کے دانشوروں، ارب پتیوں اور حکمرانوں سے ہے!
اور پھر دیکھو! ایپسٹین کے جزیرے نے وہ سب کچھ عیاں کر دیا جسے تہذیب کے خوشنما غلاف میں برسوں چھپایا گیا تھا۔ وہ جزیرہ کوئی حادثہ نہیں تھا، وہ اس تہذیب کا اصل چہرہ تھا۔ وہاں نہ کوئی اخلاق تھا، نہ کوئی قانون، نہ کوئی انسانیت—وہاں صرف نفس تھا، حیوانیت تھی، اور شیطانی رقص تھا۔ انسانی جسموں میں لپٹے ہوئے درندے، جن کے دل مردہ اور ضمیر دفن ہو چکے تھے!
اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو چوپایوں سے بھی بدتر قرار دیا ہے—اور سن لو! یہ کوئی مبالغہ نہیں، یہ فیصلۂ ربانی ہے۔
چوپائے اپنے محسن کو پہچانتے ہیں، فائدہ اور نقصان کی تمیز رکھتے ہیں، مگر یہ تہذیب جدیدکے پجاری؟
یہ وہ بدبخت ہیں جو نہ احسان سمجھتے ہیں، نہ حد پہچانتے ہیں، نہ حلال و حرام کی تمیز رکھتے ہیں۔
ان کے کان ہیں مگر حق سننے کے لیے نہیں،
آنکھیں ہیں مگر عبرت دیکھنے کے لیے نہیں،
دل ہیں مگر خوفِ خدا سے خالی!
یہ قرآن کا فیصلہ ہے—اور قرآن جب فیصلہ سناتا ہے تو تاریخ اس کی گواہی دیتی ہے۔
آج سوال یہ نہیں کہ دنیا کہاں جا رہی ہے، اصل سوال یہ ہے کہ دنیا کس کی بندگی کر رہی ہے؟
اگر معبود اللہ نہیں،اگر قانون وحی نہیں،اگر رہنما عقلِ سلیم نہیں—تو پھر انجام وہی ہوتا ہے جو ایپسٹین کے جزیرے پر نظر آیا: اخلاق کی لاش، تہذیب کا جنازہ، اور انسانیت کی تذلیل!
عرب کے مشرکین اور دیگر شرکیہ مذاہب میں کبھی ڈائریکٹ شیطان کی عبادت نہیں ہوئی ہے،اب امریکہ میں شیطن کا مجسمہ بناکر شیطان کی عبادت کی جاتی ہے،
اے اہلِ ایمان! یہ وقت خاموشی کا نہیں، یہ وقت حق کی گواہی کا ہے۔
یہ وقت نفس کے بت کو پاش پاش کرنے کا ہے،
یہ وقت اس جھوٹی تہذیب کے خلاف اعلانِ بغاوت کا ہے جو انسان کو آزادی کے نام پر حیوان بنا رہی ہے۔
نجات صرف ایک ہے:
خواہش کو معبود بنانے کے بجائے، اسے اللہ کے حکم کے تابع کر دو۔
ورنہ یاد رکھو—
نفس کا بت کبھی وفا نہیں کرتا،
وہ ہمیشہ اپنے پجاریوں کو رسوائی، ذلت اور تباہی کے سوا کچھ نہیں دیتا!
1 week ago | [YT] | 1
View 0 replies
Quran786Hadees
اللہ تعالیٰ نے رزق کے 16 دروازے مقرر کئے ہیں
اور اس کی چابیاں بھی بنائی ہیں۔ جس نے یہ چابیاں حاصل کر لیں وہ کبھی تنگدست نہیں رہے گا۔
۔
* پہلا دروازہ نماز ہے۔ جو لوگ نماز نہیں پڑھتے ان کے رزق سے برکت اٹھا دی جاتی ہے۔ وہ پیسہ ہونے کے باوجود بھی پریشان رہتے ہیں۔
* دوسرا دروازہ استغفار ہے۔ جو انسان زیادہ سے زیادہ استغفار کرتا ہے توبہ کرتا ہے اس کے رزق میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اللہ ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے کبھی اس نے سوچا بھی نہیں ہوتا۔
* تیسرا دروازہ صدقہ ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ تم اللہ کی راہ میں جو خرچ کرو گے اللہ اس کا بدلہ دے کر رہے گا، انسان جتنا دوسروں پر خرچ کرے گا اللہ اسے دس گنا بڑھا کر دے گا
* چوتھا دروازہ تقویٰ اختیار کرنا ہے۔ جو لوگ گناہوں سے دور رہتے ہیں اللہ اس کیلئے آسمان سے رزق کے دروازے کھول دیتے ہیں۔
* پانچواں دروازہ کثرتِ نفلی عبادت ہے۔ جو لوگ زیادہ سے زیادہ نفلی عبادت کرتے ہیں اللہ ان پر تنگدستی کے دروازے بند کر دیتے ہیں۔ اللہ کہتا ہے اگر تو عبادت میں کثرت نہیں کرے گا تو میں تجھے دنیا کے کاموں میں الجھا دوں گا، لوگ سنتوں اور فرض پر ہی توجہ دیتے ہیں نفل چھوڑ دیتے ہیں جس سے رزق میں تنگی ہوتی ہے
٭ چھٹا دروازہ حج اور عمرہ کی کثرت کرنا ، حدیث میں آتا ہے حج اور عمرہ گناہوں اور تنگدستی کو اس طرح دور کرتے ہیں جس طرح آگ کی بھٹی سونا چاندی کی میل دور کر دیتی ہے
٭ ساتواں دروازہ رشتہ داروں کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش آنا۔ ایسے رشتہ داروں سے بھی ملتے رہنا جو آپ سے قطع تعلق ہوں۔
٭ آٹھواں دروازہ کمزوروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا ہے۔ غریبوں کے غم بانٹنا، مشکل میں کام آنا اللہ کو بہت پسند ہے
٭ نوواں دروازہ اللہ پر توکل ہے۔ جو شخص یہ یقین رکھے کہ اللہ دے گا تو اسے اللہ ضرور دے گا اور جو شک کرے گا وہ پریشان ہی رہے گا
٭دسواں دروازہ شکر ادا کرنا ہے۔ انسان جتنا شکر ادا کرے گا اللہ رزق کے دروازے کھولتا چلا جائے گا
٭ گیارہواں دروازہ ہے گھر میں مسکرا کر داخل ہونا ،، مسکرا کر داخل ہونا سنت بھی ہے حدیث میں آتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ فرماتا ہے کہ رزق بڑھا دوں گا جو شخص گھر میں داخل ہو اور مسکرا کر سلام کرے
٭بارہواں دروازہ ماں باپ کی فرمانبرداری کرنا ہے۔ ایسے شخص پر کبھی رزق تنگ نہیں ہوتا
٭ تیرہواں دروازہ ہر وقت باوضو رہنا ہے۔ جو شخص ہر وقت نیک نیتی کیساتھ باوضو رہے تو اس کے رزق میں کمی نہیں ہوتی
٭چودہواں دروازہ چاشت کی نماز پڑھنا ہے جس سے رزق میں برکت پڑھتی ہے۔ حدیث میں ہے چاشت کی نماز رزق کو کھینچتی ہے اور تندگستی کو دور بھگاتی ہے
٭ پندرہواں دروازہ ہے روزانہ سورہ واقعہ پڑھنا ۔۔ اس سے رزق بہت بڑھتا ہے
٭ سولواں دروازہ ہے اللہ سے دعا مانگنا۔ جو شخص جتنا صدق دل سے اللہ سے مانگتا ہے اللہ اس کو بہت دیتا ہے
اللّه ہمیں ان سب پے اخلاص کے ساتھ عمل کی توفیق آتا فرمائے (آمین)
1 month ago | [YT] | 2
View 0 replies
Quran786Hadees
انسان زمینی مخلوق نہیں ھے:
امریکی ایکولوجسٹ ڈاکٹر ایلس سِلور کی تہلکہ خیز ریسرچ:
ارتقاء (Evolution) کے نظریات کا جنازہ اٹھ گیا:
ارتقائی سائنسدان لا جواب:
انسان زمین کا ایلین ہے ۔
ڈاکٹر ایلیس سِلور(Ellis Silver)نے اپنی کتاب (Humans are not from Earth) میں تہلکہ خیز دعوی کیا ہے کہ انسان اس سیارے زمین کا اصل رہائشی نہیں ہے بلکہ اسے کسی دوسرے سیارے پر تخلیق کیا گیا اور کسی وجہ سے اس کے اصل سیارے سے اس کے موجودہ رہائشی سیارے زمین پر پھینک دیا گیا۔
ڈاکٹر ایلیس جو کہ ایک سائنسدان محقق مصنف اور امریکہ کا نامور ایکالوجسٹ(Ecologist)ھے اس کی کتاب میں اس کے الفاظ پر غور کیجئیے۔ زھن میں رھے کہ یہ الفاظ ایک سائنسدان کے ہیں جو کسی مذھب پر یقین نہیں رکھتا۔
اس کا کہنا ھے کہ انسان جس ماحول میں پہلی بار تخلیق کیا گیا اور جہاں یہ رھتا رھا ھے وہ سیارہ ، وہ جگہ اس قدر آرام دہ پرسکون اور مناسب ماحول والی تھی جسے وی وی آئی پی کہا جا سکتا ھے وہاں پر انسان بہت ھی نرم و نازک ماحول میں رھتا تھا اس کی نازک مزاجی اور آرام پرست طبیعت سے معلوم ھوتا ھے کہ اسے اپنی روٹی روزی کے لئے کچھ بھی تردد نہین کرنا پڑتا تھا ، یہ کوئی بہت ہی لاڈلی مخلوق تھی جسے اتنی لگژری لائف میسر تھی ۔ ۔ وہ ماحول ایسا تھا جہاں سردی اور گرمی کی بجائے بہار جیسا موسم رھتا تھا اور وہاں پر سورج جیسے خطرناک ستارے کی تیز دھوپ اور الٹراوائلیٹ شعاعیں بالکل نہیں تھیں جو اس کی برداشت سے باھر اور تکلیف دہ ھوتی ہیں۔
تب اس مخلوق انسان سے کوئی غلطی ہوئی ۔۔
اس کو کسی غلطی کی وجہ سے اس آرام دہ اور عیاشی کے ماحول سے نکال کر پھینک دیا گیا تھا ۔جس نے انسان کو اس سیارے سے نکالا لگتا ہے وہ کوئی انتہائی طاقتور ہستی تھی جس کے کنٹرول میں سیاروں ستاروں کا نظام بھی تھا ۔۔۔ وہ جسے چاہتا ، جس سیارے پر چاہتا ، سزا یا جزا کے طور پر کسی کو بھجوا سکتا تھا۔ وہ مخلوقات کو پیدا کرنے پر بھی قادر تھا۔
ڈاکٹر سلور کا کہنا ہے کہ ممکن ہے زمین کسی ایسی جگہ کی مانند تھی جسے جیل قرار دیا جاسکتا ھے ۔ یہاں پر صرف مجرموں کو سزا کے طور پر بھیجا جاتا ہو۔ کیونکہ زمین کی شکل۔۔ کالا پانی جیل کی طرح ہے ۔۔۔ خشکی کے ایک ایسے ٹکڑے کی شکل جس کے چاروں طرف سمندر ہی سمندر ھے ، وہاں انسان کو بھیج دیا گیا۔
ڈاکٹر سلور ایک سائنٹسٹ ہے جو صرف مشاہدات کے نتائج حاصل کرنے بعد رائے قائم کرتا ہے ۔ اس کی کتاب میں سائنسی دلائل کا ایک انبار ہے جن سے انکار ممکن نہیں۔
اس کے دلائل کی بڑی بنیاد جن پوائنٹس پر ھے ان میں سے چند ایک ثابت شدہ یہ ہیں۔
نمبر ایک ۔ زمین کی کش ثقل اور جہاں سے انسان آیا ہے اس جگہ کی کشش ثقل میں بہت زیادہ فرق ہے ۔ جس سیارے سے انسان آیا ہے وہاں کی کشش ثقل زمین سے بہت کم تھی ، جس کی وجہ سے انسان کے لئے چلنا پھرنا بوجھ اٹھا وغیرہ بہت آسان تھا۔ انسانوں کے اندر کمر درد کی شکایت زیادہ گریوٹی کی وجہ سے ہے ۔
نمبر دو ؛انسان میں جتنے دائمی امراض پائے جاتے ہیں وہ باقی کسی ایک بھی مخلوق میں نہیں جو زمین پر بس رہی ہے ۔ ڈاکٹر ایلیس لکھتا ہے کہ آپ اس روئے زمین پر ایک بھی ایسا انسان دکھا دیجئیے جسے کوئی ایک بھی بیماری نہ ہو تو میں اپنے دعوے سے دستبردار ہوسکتا ہوں جبکہ میں آپ کو ھر جانور کے بارے میں بتا سکتا ہوں کہ وہ وقتی اور عارضی بیماریوں کو چھوڑ کر کسی ایک بھی مرض میں ایک بھی جانور گرفتار نہیں ہے ۔
نمبر تین ؛ ایک بھی انسان زیادہ دیر تک دھوپ میں بیٹھنا برداشت نہیں کر سکتا بلکہ کچھ ہی دیر بعد اس کو چکر آنے لگتے ہیں اور سن سٹروک کا شکار ہوسکتا ہے جبکہ جانوروں میں ایسا کوئی ایشو نہیں ھے مہینوں دھوپ میں رھنے کے باوجود جانور نہ تو کسی جلدی بیماری کا شکار ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی اور طرح کے مر ض میں مبتلا ہوتے ہیں جس کا تعلق سورج کی تیز شعاعوں یا دھوپ سے ہو۔
نمبر چار ؛ ہر انسان یہی محسوس کرتا ہے اور ہر وقت اسے احساس رہتا ہے کہ اس کا گھر اس سیارے پر نہیں۔ کبھی کبھی اس پر بلاوجہ ایسی اداسی طاری ہوجاتی ہے جیسی کسی پردیس میں رہنے والے پر ہوتی ہے چاہے وہ بیشک اپنے گھر میں اپنے قریبی خونی رشتے داروں کے پاس ہی کیوں نا بیٹھا ہوں۔
نمبر پانچ زمین پر رہنے والی تمام مخلوقات کا ٹمپریچر آٹومیٹک طریقے سے ہر سیکنڈ بعد ریگولیٹ ہوتا رہتا ہے یعنی اگر سخت اور تیز دھوپ ھے تو ان کے جسم کا درجہ حرارت خود کار طریقے سے ریگولیٹ ہو جائے گا، جبکہ اسی وقت اگر بادل آ جاتے ہیں تو ان کے جسم کا ٹمپریچر سائے کے مطابق ہو جائے گا جبکہ انسان کا ایسا کوئی سسٹم نہیں بلکہ انسان بدلتے موسم اور ماحول کے ساتھ بیمار ھونے لگ جائے گا۔ موسمی بخار کا لفظ صرف انسانوں میں ھے۔
نمبر چھ ؛انسان اس سیارے پر پائے جانے والے دوسرے جانداروں سے بہت مختلف ہے ۔ اسکا ڈی این اے اور جینز کی تعداد اس سیارہ زمین پہ جانے والے دوسرے جانداروں سے بہت مختلف اور بہت زیادہ ہے۔
نمبر سات: زمین کے اصل رہائشی (جانوروں) کو اپنی غذا حاصل کرنا اور اسے کھانا مشکل نہیں، وہ ہر غذا ڈائریکٹ کھاتے ہیں، جبکہ انسان کو اپنی غذا کے چند لقمے حاصل کرنے کیلیئے ہزاروں جتن کرنا پڑتے ہیں، پہلے چیزوں کو پکا کر نرم کرنا پڑتا ھے پھر اس کے معدہ اور جسم کے مطابق وہ غذا استعمال کے قابل ھوتی ھے، اس سے بھی ظاہر ھوتا ھے کہ انسان زمین کا رہنے والا نہیں ھے ۔ جب یہ اپنے اصل سیارے پر تھا تو وہاں اسے کھانا پکانے کا جھنجٹ نہیں اٹھانا پڑتا تھا بلکہ ہر چیز کو ڈائریکٹ غذا کیلیئے استعمال کرتا تھا۔
مزید یہ اکیلا دو پاؤں پر چلنے والا ھے جو اس کے یہاں پر ایلین ھونے کی نشانی ھے۔
نمبر آٹھ: انسان کو زمین پر رہنے کیلیے بہت نرم و گداز بستر کی ضرورت ھوتی ھے جبکہ زمین کے اصل باسیوں یعنی جانوروں کو اس طرح نرم بستر کی ضرورت نہیں ھوتی۔ یہ اس چیز کی علامت ھے کہ انسان کے اصل سیارے پر سونے اور آرام کرنے کی جگہ انتہائی نرم و نازک تھی جو اس کے جسم کی نازکی کے مطابق تھی ۔
نمبر نو: انسان زمین کے سب باسیوں سے بالکل الگ ھے لہذا یہ یہاں پر کسی بھی جانور (بندر یا چمپینزی وغیرہ) کی ارتقائی شکل نہیں ھے بلکہ اسے کسی اور سیارے سے زمین پر کوئی اور مخلوق لا کر پھینک گئی ھے ۔
انسان کو جس اصل سیارے پر تخلیق کیا گیا تھا وہاں زمین جیسا گندا ماحول نہیں تھا، اس کی نرم و نازک جلد جو زمین کے سورج کی دھوپ میں جھلس کر سیاہ ہوجاتی ہے اس کے پیدائشی سیارے کے مطابق بالکل مناسب بنائی گئی تھی ۔ یہ اتنا نازک مزاج تھا کہ زمین پر آنے کے بعد بھی اپنی نازک مزاجی کے مطابق ماحول پیدا کرنے کی کوششوں میں رھتا ھے۔جس طرح اسے اپنے سیارے پر آرام دہ اور پرتعیش بستر پر سونے کی عادت تھی وہ زمین پر آنے کے بعد بھی اسی کے لئے اب بھی کوشش کرتا ھے کہ زیادہ سے زیادہ آرام دہ زندگی گزار سکوں۔ جیسے خوبصورت قیمتی اور مضبوط محلات مکانات اسے وہاں اس کے ماں باپ کو میسر تھے وہ اب بھی انہی جیسے بنانے کی کوشش کرتا ہے ۔ جبکہ باقی سب جانور اور مخلوقات اس سے بے نیاز ہیں۔ یہاں زمین کی مخلوقات عقل سے عاری اور تھرڈ کلاس زندگی کی عادی ہیں جن کو نہ اچھا سوچنے کی توفیق ہے نہ اچھا رہنے کی اور نہ ہی امن سکون سے رھنے کی۔ انسان ان مخلوقات کو دیکھ دیکھ کر خونخوار ہوگیا۔ جبکہ اس کی اصلیت محبت فنون لطیفہ اور امن و سکون کی زندگی تھی ۔۔یہ ایک ایسا قیدی ہے جسے سزا کے طور پر تھرڈ کلاس سیارے پر بھیج دیا گیا تاکہ اپنی سزا کا دورانیہ گزار کر واپس آ جائے ۔ڈاکٹر ایلیس کا کہنا ہے کہ انسان کی عقل و شعور اور ترقی سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ایلین کے والدین کو اپنے سیارے سے زمین پر آئے ہوئے کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا ، ابھی کچھ ہزار سال ہی گزرے ہیں یہ ابھی اپنی زندگی کو اپنے پرانے سیارے کی طرح لگژری بنانے کے لئے بھرپور کوشش کر رہاہے ، کبھی گاڑیاں ایجاد کرتا ہے ، کبھی موبائل فون اگر اسے آئے ہوئے چند لاکھ بھی گزرے ہوتے تو یہ جو آج ایجادات نظر آ رہی ہیں یہ ہزاروں سال پہلے وجود میں آ چکی ہوتیں ، کیونکہ میں اور تم اتنے گئے گزرے نہیں کہ لاکھوں سال تک جانوروں کی طرح بیچارگی اور ترس کی زندگی گزارتے رہتے۔
ڈاکٹر ایلیس سِلور کی کتاب میں اس حوالے سے بہت کچھ ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس کے دلائل کو ابھی تک کوئی جھوٹا نہیں ثابت کر سکا۔۔
میں اس کے سائنسی دلائل اور مفرو ضوں پر غور کر رہا تھا۔۔ یہ کہانی ایک سائنسدان بیان کر رہا ھے یہ کوئی کہانی نہیں بلکہ حقیقی داستان ہے جسے انسانوں کی ہر الہامی کتاب میں بالکل اسی طرح بیان کیا گیا ہے۔ میں اس پر اس لئے تفصیل نہیں لکھوں گا کیونکہ آپ سبھی اپنے باپ آدم ؑ اور حوا ؑ کے قصے کو اچھی طرح جانتے ہیں۔۔ سائنس اللہ کی طرف چل پڑی ہے ۔۔ سائنسدان وہ سب کہنے پر مجبور ھوگئے ہیں جو انبیاء کرام اپنی نسلوں کو بتاتے رہے تھے ۔ میں نے نسل انسانی پر لکھنا شروع کیا تھا۔ اب اس تحریر کے بعد میں اس سلسلے کو بہتر انداز میں آگے بڑھا سکوں گا۔۔
ارتقاء کے نظریات کا جنازہ اٹھ چکا ہے ۔۔ اب انسانوں کی سوچ کی سمت درست ہو رہی ھے ۔۔ یہ سیارہ ہمارا نہین ہے ۔یہ میں نہیں کہتا بلکہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیشمار بار بتا دیا تھا۔ اللہ پاک نے اپنی عظیم کتاب قران حکیم میں بھی بار بار لاتعداد مرتبہ یہی بتا دیا کہ اے انسانوں یہ دنیا کی زندگی تمہاری آزمائش کی جگہ ہے ۔ جہاں سے تم کو تمہارے اعمال کے مطابق سزا و جزا ملے گی ۔
2 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Quran786Hadees
3 months ago | [YT] | 2
View 0 replies
Quran786Hadees
🐒اصحاب سبت کی کہانی
سمندر کے کنارے واقع ایک بستی جسے "ایلہ" کہتے تھے، جو موجودہ بحر احمر کے ساحل پر، مدین اور طور کے درمیان واقع تھی، میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا جس کا ذکر اللہ نے اپنے کلام میں کیا ہے:
> "اور ان سے اس بستی کا حال پوچھو جو سمندر کے کنارے تھی۔ جب وہ ہفتہ کے دن حد سے بڑھنے لگے تھے، اور ان کی مچھلیاں ہفتے کے دن ان کے سامنے سطح آب پر ظاہر ہو جاتی تھیں، اور جب ہفتہ کا دن نہ ہوتا تو وہ ان کے پاس نہ آتی تھیں۔ اس طرح ہم ان کی آزمائش کر رہے تھے کیونکہ وہ نافرمان تھے۔"
(سورۃ الاعراف: 163)
یہاں "اصحاب سبت" رہتے تھے، جو یہودی قوم میں سے تھے۔ اللہ نے ان کے لئے ہفتے کا دن عبادت کے لئے مخصوص کیا تھا اور انہیں دنیا کے امور میں مشغول ہونے سے منع کیا تھا، کیونکہ وہ باقی دنوں میں عبادت کی پابندی نہیں کرتے تھے۔ بنی اسرائیل کو ہفتے کے دن تجارت، صنعت اور مچھلی پکڑنے سے روکا گیا تھا۔ یہ اللہ کا ایک امتحان تھا، کہ ہفتے کے دن مچھلیوں کی کثرت ہونے لگی، مگر وہ صبر نہ کر سکے اور انہوں نے حیلے سے انہیں پکڑنا شروع کر دیا۔
ابن عباس اور دوسرے علماء کے مطابق، یہودی اس زمانے میں ہفتے کے دن کی حرمت پر عمل پیرا تھے۔ مچھلیاں اس دن ان کی طرف امن و سکون سے آجاتیں کیونکہ وہ انہیں باقی دنوں میں پکڑتے تھے۔ اللہ نے انہیں آزمائش میں ڈالا اور ہفتے کے دن مچھلیوں کی کثرت سے انہیں آزمایا۔ جب انہوں نے یہ دیکھا تو انہوں نے مچھلیاں پکڑنے کے لئے حیلے کا سہارا لیا۔
ایک دن، گاؤں کے ایک فرد کو مچھلی کھانے کی خواہش ہوئی، تو شیطان نے اسے ایک حیلہ سکھایا۔ وہ ہفتے کے دن سمندر کے کنارے آیا اور ایک بڑی مچھلی کو دیکھ کر اس کی دم کو رسی سے باندھ کر کنارے پر لگا دیا، اور شام کو واپس آ کر مچھلی کو لے کر چلا گیا اور اسے بھون کر کھایا۔ جب اس کے ہمسائے اس سے پوچھنے آئے تو اس نے کہا کہ یہ تو محض ایک مچھلی کی کھال ہے جو اس نے بھون لی ہے۔ اگلے ہفتے اس نے یہی کام پھر کیا، اور دوسروں کو بھی بتا دیا، تو انہوں نے بھی اس کی تقلید شروع کر دی۔
بنی اسرائیل نے ہفتے کے دن مچھلی پکڑنے کے لئے نت نئے حیلے ایجاد کئے۔ بعض نے جمعہ کے دن سمندر کے ساتھ جڑے ہوئے گڑھے کھودے تاکہ ہفتے کے دن مچھلیاں ان گڑھوں میں جمع ہو جائیں اور پھر آسانی سے پکڑی جا سکیں۔ یہ کام عام ہو گیا، یہاں تک کہ لوگوں نے علانیہ مچھلی پکڑ کر بازار میں بیچنی شروع کر دیں۔ جب فاسقوں نے علانیہ اس طرح مچھلی پکڑنا شروع کیا، تو بنی اسرائیل کے علماء نے انہیں روکا اور ڈرایا، مگر وہ باز نہ آئے۔ چنانچہ نیک لوگوں نے ان سے الگ ہو کر ایک دیوار بنا لی اور ان کے ساتھ رہنا ترک کر دیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
> "اور جب ان میں سے ایک جماعت نے کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا انہیں سخت عذاب دینے والا ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ اس لئے ہے کہ تمہارے رب کے سامنے معذرت کریں اور شاید کہ وہ پرہیزگار بن جائیں۔"
(سورۃ الاعراف: 164)
چنانچہ یہ قوم تین گروہوں میں بٹ گئی؛ ایک وہ جو نافرمانی کرتے ہوئے ہفتے کے دن مچھلی پکڑنے لگے، ان کی تعداد تقریباً ستر ہزار تھی۔ دوسرا گروہ ان کو روکنے والا تھا جن کی تعداد بارہ ہزار تھی، اور تیسرا گروہ وہ تھا جو نہ تو گناہ کرتے اور نہ روکتے تھے۔
پھر رات کو اللہ کا عذاب آیا اور فاسقوں کو سزا کے طور پر نوجوانوں کو بندر اور بوڑھی عورتوں کو خنزیر بنا دیا گیا۔ صبح جب نیک لوگ اپنے کاموں پر گئے تو فاسقوں کو وہاں موجود نہ پا کر حیران ہو گئے۔ جب انہوں نے دیوار پر چڑھ کر جھانکا تو دیکھا کہ فاسق بندر اور خنزیر بن گئے ہیں، اور آوازیں نکال رہے ہیں۔
انہوں نے ان کے دروازے کھولے تو ہر بندر اپنے قریبی انسان کو دیکھ کر اس کے کپڑے سونگھتا اور روتا تھا۔
مسخ شدہ لوگ تین دن تک زندہ رہے، نہ کچھ کھایا، نہ پیا اور نہ ہی ان کی نسل چلی۔ اس طرح ان کی موت ہو گئی اور وہ آنے والی قوموں کے لئے عبرت کا نشان بن گئے۔
3 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Quran786Hadees
Come and join
4 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Quran786Hadees
*اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی ,مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ📿🫠*
*اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ*📿🫠✨🤍🌹 🍇 🎀 🎀 🍇
4 months ago | [YT] | 12
View 0 replies
Quran786Hadees
:بندگی کا امتحان:
نوح علیہ السلام کشتی بنا رہے تھے، مگر وہاں، جہاں پانی کا نام و نشان نہ تھا۔
گرد و پیش زمین خشک تھی آسمان بلکل صاف، نہ بادل تھے نہ بارش کی کوئی آہٹ۔
لیکن نوحؑ کے کانوں میں وحی کی بازگشت تھی.
"ایک طوفان آنے والا ہے۔ زمین ڈوب جائے گی۔ سرکش غرق ہوں گے۔"
یہ عام آدمی کے لیے ایک دیوانے کا خواب ہو سکتا تھا، مگر نوحؑ کے لیے یہ رب کا وعدہ تھا۔
اللہ کا حکم تھا: "کشتی بناؤ"
اور وہ بنانے لگے۔ درختوں کو کاٹا گیا، لکڑیاں جوڑی گئیں، کیل ٹھونکے گئے۔ اور وہ تین منزلہ کشتی خشکی پر اٹھنے لگی۔
قوم کے سردار روز گزرتے، ہنستے، طعنے دیتے، اور کہتے: "کیا سمندر اب تمہارے خوابوں سے نکلے گا؟"
نوحؑ نے جواب دیا، جو قرآن میں آج بھی محفوظ ہے:
"وَيَصۡنَعُالۡفُلۡكَوَكُلّمَا مَرّعَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ سَخِرُوۡا مِنۡهُ ؕ قَالَاِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنّا فَاِنّا نَسۡخَرُمِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَؕ"
(سورہ ہود: 38)
"اگر تم ہم پر ہنستے ہو، تو ہم بھی تم پر ہنسیں گے، جیسے تم ہنستے ہو۔"
یہ کشتی نہیں بن رہی تھی، یہ یقین لکڑی سے جوڑ بنا رہا تھا ، توکل کے کیلوں سے جُڑی ہوئی یہ کشتی، صبر کے پانی سے سیراب کی گئی تھی۔ نوحؑ نے قوم کے قہقہوں کو نہیں سنا، صرف رب کے حکم کو سنا۔
طوفان آیا۔
وہی زمین جسے لوگ خشک سمجھتے تھے، سمندر بن گئی۔ جو کل مذاق کر رہے تھے، آج مدد کیلئے چیخ رہے تھے۔ لیکن وقت گزر چکا تھا۔ دروازہ بند ہو چکا تھا۔
نجات صرف اُس کشتی میں تھی، جو وقت پر اللہ کے حکم پر بنائی گئی تھی۔
نوحؑ علیہ السلام پیغمبر تھے ، مگر ہم خاتم النبیین ﷺ کے اُمتی ہیں۔ ہمارے لیے بھی احکام ہیں، ہدایات ہیں، اور کچھ طوفان ہمارے ایمان، وقت، نسل، اور اقدار کو بہا لے جانے کے لیے تیار کھڑے ہیں۔
آج ہمیں بھی خشکی پر اپنی کشتی بنانی ہے محنت کی، دعا کی، علم کی، اور نیت کی۔
بہت مذاق اڑے گا رکاوٹیں آئیں گی، تاخیر بھی ہوگی۔
مگر حکم ہو چکا ہے۔
کشتی بنانی ہے۔ اپنے ایمان کو بچانا ہے.
پانی کا انتظار تو بس ڈوبنے کا دوسرا نام ہے۔ یہ ایمان کا سفر ہے. یہی بندگی کا امتحان ہے.!!!
5 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
Quran786Hadees
*اصحابِ کہف کا کتا کیوں نہیں پلٹا گیا؟*
ہم نے سورۃ الکہف کو متعدد بار پڑھا ہوگا، مگر شاید کبھی اس نکتے پر غور نہ کیا ہو کہ اصحابِ کہف (غار کے نیک نوجوان) سوتے ہوئے دائیں بائیں کروٹیں بدلتے تھے،
جبکہ ان کا کتا ایک ہی حالت میں بیٹھا رہا – اور نہ کبھی کروٹ بدلی، نہ اس کا جسم خراب ہوا!
طبی لحاظ سے انسان کو سوتے ہوئے اگر ایک ہی پوزیشن میں چھوڑ دیا جائے تو اس کے جسم پر زخم (bedsores) بننے لگتے ہیں،
اسی لیے اللہ نے فرمایا:
“وَنُقَلِّبُهُمْ ذاتَ اليَمِينِ وذاتَ الشِّمالِ”
یعنی ہم انہیں دائیں اور بائیں کروٹ دلواتے رہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کتا کیوں نہیں پلٹا گیا؟
یہ سوال ایک جرمن طبیب کے دل میں بیٹھ گیا۔
وہ ایک سفر کے دوران ایک نوجوان سے قرآن کا ترجمہ حاصل کرتا ہے۔
(اگرچہ نیت یہ تھی کہ بعد میں پھینک دے گا)،
مگر طیارے میں بوریت کے باعث وہ قرآن کھول کر پڑھتا ہے، اور سورۃ الکہف کی آیات 17 اور 18 پر آ کر رک جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے:
یہ تو میں سمجھ گیا کہ نوجوانوں کا کروٹ لینا ان کے جسم کی حفاظت کے لیے تھا،
اور سورج کی شعاعیں بھی براہِ راست نہ پڑ کر ایک خاص زاویے سے غار میں داخل ہوتی تھیں جو کہ طبی طور پر ایک مکمل ہوا دار اور صحت مند ماحول کی علامت ہے۔
مگر ورطہ حیرت میں اسے اس بات نے ڈالا کہ کتا 309 سال تک ایک ہی پوزیشن میں رہا، نہ کروٹ بدلی، نہ جسم گل سڑا؟
اس نے کتے کی جلد پر تحقیق شروع کر سی تحقیق مکمل ہوئی تو پایا کہ:
کتوں کی جلد کے نیچے مخصوص غدود (glands) ہوتے ہیں جو ایسی قدرتی رطوبت خارج کرتے ہیں جو جلد کو سڑنے سے بچاتی ہے، جب تک کہ جسم میں زندگی باقی ہو۔
یہ سائنسی حقیقت قرآن کی ایک چھوٹی سی آیت میں صدیوں پہلے بیان کی گئی تھی۔
یہی نکتہ اس ڈاکٹر کے دل میں ایمان جگا گیا اور وہ مسلمان ہو گیا۔
بے شک قرآن پاک میں ہر چیز کا علم ہے
اللہ تعالی ہمیں سیکھ اور سمجھ کر قرآن پاک پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!
5 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
Quran786Hadees
جن کی قبروں پر روز جاکر بچے مانگے جاتے ہیں سجدے کیے جاتے ہیں حاجتیں مانگی جاتی ہیں۔ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر ان کے پاس قدرت او طاقت ہوتی تو آج کم از کم سیلاب سے اپنی مزار کو بچالیتے۔حاجت روا اور مشکل کشاء صرف اور صرف اللہ کی ذات ہے۔
5 months ago | [YT] | 2
View 0 replies
Load more