آپ اس چینل میں بی ایس اردو کے متعلق تمام معلومات اور نوٹس ملیں گے اور شاعری کی ویڈیو بھی ملے گی
SULAIMAN SHAH OFFICIAL
آج کا سوال ⁉️📖 قافلہ،اسم کی کون سی قسم ہے؟✍️ جواب:اسم جمع
3 days ago | [YT] | 0
View 0 replies
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا کبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا رگ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا جسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے غم عشق گر نہ ہوتا غم روزگار ہوتا کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بری بلا ہے مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا ہوئے مر کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتااسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتا یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالبؔ تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتااسد اللہ خاں غالب
1 week ago | [YT] | 0
2 months ago | [YT] | 2
پلٹ کے دیکھ رہا ہے جو آنکھ بھر کے مجھے غمِ جدائی صلہ دے گیا گزر کے مجھےمیں خواب ڈھونڈنے نکلی تھی گرد لے آئیسراب دیکھنے آئے ہیں عمر بھر کے مجھے میں سن رہی ہوں صدائیں اداس رستوں میںپکارتی ہیں خزائیں بکھر بکھر کے مجھے مرے وجود کے پاتال میں گزیدہ ہیں جو خواب بیچ رہے ہو ادھر ا'دھر کے مجھےنہ جانے کون سے وقتوں میں کھو گئیں ہم سےبلا رہیں ہیں بہاریں جو بن سنور کے مجھےشائستہ مفتی#shaistamufti. #urdupoetrylines. #urduforum. #goodvibesonly. #urdushairi. #loveyouzindagi. #urdupoetry. @highlight
2 months ago | [YT] | 0
View 1 reply
وہ تَہی دَست بھی کیا خوب کہانی گَر تھا باتوں باتوں میں مجھے چاند بھی لا دیتا تھا ہنساتا تھا مجھ کو تو پھر وہ رُلا بھی دیتا تھاکر کے وہ مجھ سے اکثر وعدے بُھلا بھی دیتا تھابے وفا تھا بہت مگر دل کو اچھا لگتا تھاکبھی کبھار باتیں محبت کی سُنا بھی دیتا تھاکبھی بے وقت چلا آتا تھا ملنے کوکبھی قیمتی وقت محبت کے گنوا بھی دیتا تھاتھام لیتا تھا میرا ہاتھ کبھی یوں ہی خودکبھی ہاتھ اپنا میرے ہاتھ سے چھڑا بھی لیتا تھاعجیب دھوپ چھاؤں سا مزاج تھا اُس کامعتبر بھی رکھتا تھا نظروں سے گرا بھی دیتا تھا...!پروین شاکر
جلووں کو ترے دیکھ کے جی چاہ رہا ہےآنکھوں میں اتر آئے مرا کیفِ نظر بھیواعظ نہ ڈرا مجھ کو قیامت کی سحر سےدیکھی ہے ان آنکھوں نے قیامت کی سحر بھیاُس دل کے تصدق جو محبت سے بھرا ہواُس درد کے صدقے جو ادھر بھی ہو اُدھر بھی جگر مراد آبادی
یہ دل یہ پاگل دل میرا کیوں بجھ گیا آوارگی اس دشت میں اک شہر تھا وہ کیا ھوا آوارگی کل شب مجھے بے شکل کی آواز نے چونکا دیا میں نے کہا تو کون ھے اس نے کہا آوارگی لوگو بھلا اس شہر میں کیسے جئیں گے ھم جہاں ھو جرم تنہا سوچنا لیکن سزا آوارگی یہ درد کی تنہائیاں یہ دشت کا ویراں سفر ھم لوگ تو اکتا گئے اپنی سنا آوارگی اک اجنبی جھونکے نے جب پوچھا میرے غم کا سبب صحرا کی بھیگی ریت پر میں نے لکھا آوارگی اس سمت وحشی خواھشوں کی زد میں پیمان وفا اس سمت لہروں کی دھمک کچا گھڑا آوارگی کل رات تنہا چاند کو دیکھا تھا میں نے خواب میں محسنؔ مجھے راس آئے گی شاید سدا آوارگیسید مُحسن نقوی
مرزا غالبدل ناداں تجھے ہوا کیا ہےآخر اس درد کی دوا کیا ہےہم ہیں مشتاق اور وہ بیزاریا الٰہی یہ ماجرا کیا ہےمیں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوںکاش پوچھو کہ مدعا کیا ہےجب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجودپھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہےسبزہ و گل کہاں سے آئے ہیںابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہےہم کو ان سے وفا کی ہے امیدجو نہیں جانتے وفا کیا ہےہاں بھلا کر ترا بھلا ہوگااور درویش کی صدا کیا ہےجان تم پر نثار کرتا ہوںمیں نہیں جانتا دعا کیا ہےمیں نے مانا کہ کچھ نہیں غالبؔمفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے
اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرحالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کراس شخص کے تم سے بھی مراسم ہیں تو ہوں گےوہ جھوٹ نہ بولے گا مرے سامنے آ کرکیا جانئے کیوں تیز ہوا سوچ میں گم ہےخوابیدہ پرندوں کو درختوں سے اڑا کروہ آج بھی صدیوں کی مسافت پہ کھڑا ہےڈھونڈا تھا جسے وقت کی دیوار گرا کرہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دےتنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کراے دل تجھے دشمن کی بھی پہچان کہاں ہےتو حلقۂ یاراں میں بھی محتاط رہا کراس شب کے مقدر میں سحر ہی نہیں محسنؔدیکھا ہے کئی بار چراغوں کو بجھا کرمحسنؔ نقوی~
زخم کو پُھول تو صَرصَر کو صبا کہتے ہیںجانے کیا دور ہے کیا لوگ ہیں کیا کہتے ہیںکیا قیامت ہے کہ جِن کے لیے رُک رُک کے چلےاب وہی لوگ ہمیں ، آبلہ پا کہتے ہیںکوئی بتلاؤ کہ اِک عُمر کا بِچھڑا محبوباتفاقاً کہیں مِل جائے تو ، کیا کہتے ہیںیہ بھی اندازِ سُخن ہے کہ جفا کو تیریغمزہ و عشوہ و ، انداز و ادا کہتے ہیںکیا تعجُب ہے کہ ہم اہلِ تمنا کو فرازؔوہ جو محرومِ تمنا ہیں بُرا کہتے ہیں...!
Load more
SULAIMAN SHAH OFFICIAL
آج کا سوال ⁉️
📖 قافلہ،اسم کی کون سی قسم ہے؟
✍️ جواب:اسم جمع
3 days ago | [YT] | 0
View 0 replies
SULAIMAN SHAH OFFICIAL
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا
کبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا
کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو
یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا
رگ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا
جسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا
غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے
غم عشق گر نہ ہوتا غم روزگار ہوتا
کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بری بلا ہے
مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا
ہوئے مر کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا
نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا
اسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا
جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتا
یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالبؔ
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
اسد اللہ خاں غالب
1 week ago | [YT] | 0
View 0 replies
SULAIMAN SHAH OFFICIAL
2 months ago | [YT] | 2
View 0 replies
SULAIMAN SHAH OFFICIAL
پلٹ کے دیکھ رہا ہے جو آنکھ بھر کے مجھے
غمِ جدائی صلہ دے گیا گزر کے مجھے
میں خواب ڈھونڈنے نکلی تھی گرد لے آئی
سراب دیکھنے آئے ہیں عمر بھر کے مجھے
میں سن رہی ہوں صدائیں اداس رستوں میں
پکارتی ہیں خزائیں بکھر بکھر کے مجھے
مرے وجود کے پاتال میں گزیدہ ہیں
جو خواب بیچ رہے ہو ادھر ا'دھر کے مجھے
نہ جانے کون سے وقتوں میں کھو گئیں ہم سے
بلا رہیں ہیں بہاریں جو بن سنور کے مجھے
شائستہ مفتی
#shaistamufti. #urdupoetrylines. #urduforum. #goodvibesonly. #urdushairi. #loveyouzindagi. #urdupoetry. @highlight
2 months ago | [YT] | 0
View 1 reply
SULAIMAN SHAH OFFICIAL
وہ تَہی دَست بھی کیا خوب کہانی گَر تھا
باتوں باتوں میں مجھے چاند بھی لا دیتا تھا
ہنساتا تھا مجھ کو تو پھر وہ رُلا بھی دیتا تھا
کر کے وہ مجھ سے اکثر وعدے بُھلا بھی دیتا تھا
بے وفا تھا بہت مگر دل کو اچھا لگتا تھا
کبھی کبھار باتیں محبت کی سُنا بھی دیتا تھا
کبھی بے وقت چلا آتا تھا ملنے کو
کبھی قیمتی وقت محبت کے گنوا بھی دیتا تھا
تھام لیتا تھا میرا ہاتھ کبھی یوں ہی خود
کبھی ہاتھ اپنا میرے ہاتھ سے چھڑا بھی لیتا تھا
عجیب دھوپ چھاؤں سا مزاج تھا اُس کا
معتبر بھی رکھتا تھا نظروں سے گرا بھی دیتا تھا...!
پروین شاکر
2 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
SULAIMAN SHAH OFFICIAL
جلووں کو ترے دیکھ کے جی چاہ رہا ہے
آنکھوں میں اتر آئے مرا کیفِ نظر بھی
واعظ نہ ڈرا مجھ کو قیامت کی سحر سے
دیکھی ہے ان آنکھوں نے قیامت کی سحر بھی
اُس دل کے تصدق جو محبت سے بھرا ہو
اُس درد کے صدقے جو ادھر بھی ہو اُدھر بھی
جگر مراد آبادی
2 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
SULAIMAN SHAH OFFICIAL
یہ دل یہ پاگل دل میرا کیوں بجھ گیا آوارگی
اس دشت میں اک شہر تھا وہ کیا ھوا آوارگی
کل شب مجھے بے شکل کی آواز نے چونکا دیا
میں نے کہا تو کون ھے اس نے کہا آوارگی
لوگو بھلا اس شہر میں کیسے جئیں گے ھم جہاں
ھو جرم تنہا سوچنا لیکن سزا آوارگی
یہ درد کی تنہائیاں یہ دشت کا ویراں سفر
ھم لوگ تو اکتا گئے اپنی سنا آوارگی
اک اجنبی جھونکے نے جب پوچھا میرے غم کا سبب
صحرا کی بھیگی ریت پر میں نے لکھا آوارگی
اس سمت وحشی خواھشوں کی زد میں پیمان وفا
اس سمت لہروں کی دھمک کچا گھڑا آوارگی
کل رات تنہا چاند کو دیکھا تھا میں نے خواب میں
محسنؔ مجھے راس آئے گی شاید سدا آوارگی
سید مُحسن نقوی
2 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
SULAIMAN SHAH OFFICIAL
مرزا غالب
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار
یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے
میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں
کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے
جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں
ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
ہاں بھلا کر ترا بھلا ہوگا
اور درویش کی صدا کیا ہے
جان تم پر نثار کرتا ہوں
میں نہیں جانتا دعا کیا ہے
میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالبؔ
مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے
2 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
SULAIMAN SHAH OFFICIAL
اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر
حالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کر
اس شخص کے تم سے بھی مراسم ہیں تو ہوں گے
وہ جھوٹ نہ بولے گا مرے سامنے آ کر
کیا جانئے کیوں تیز ہوا سوچ میں گم ہے
خوابیدہ پرندوں کو درختوں سے اڑا کر
وہ آج بھی صدیوں کی مسافت پہ کھڑا ہے
ڈھونڈا تھا جسے وقت کی دیوار گرا کر
ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے
تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر
اے دل تجھے دشمن کی بھی پہچان کہاں ہے
تو حلقۂ یاراں میں بھی محتاط رہا کر
اس شب کے مقدر میں سحر ہی نہیں محسنؔ
دیکھا ہے کئی بار چراغوں کو بجھا کر
محسنؔ نقوی~
2 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
SULAIMAN SHAH OFFICIAL
زخم کو پُھول تو صَرصَر کو صبا کہتے ہیں
جانے کیا دور ہے کیا لوگ ہیں کیا کہتے ہیں
کیا قیامت ہے کہ جِن کے لیے رُک رُک کے چلے
اب وہی لوگ ہمیں ، آبلہ پا کہتے ہیں
کوئی بتلاؤ کہ اِک عُمر کا بِچھڑا محبوب
اتفاقاً کہیں مِل جائے تو ، کیا کہتے ہیں
یہ بھی اندازِ سُخن ہے کہ جفا کو تیری
غمزہ و عشوہ و ، انداز و ادا کہتے ہیں
کیا تعجُب ہے کہ ہم اہلِ تمنا کو فرازؔ
وہ جو محرومِ تمنا ہیں بُرا کہتے ہیں...!
2 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Load more