Sulman Feroz is a Chiropractor, Exercise physiologist and Sports scientist. He was himself a Sportsman and won multiple Gold medals in National championship. He is working with many national sports teams as a rehabilitation expert.
Chiropractic Care with SULMAN FEROZ (PainRehab)
Plot no 5, Township, Block 3 Sector B 2 Lahore, Punjab
Location:
goo.gl/maps/5v1G4Xqy8n1up1377
Book an Appointment at:
03334480792
03044785892
Dr Sulman Feroz
بیٹھنے سے ہونے والا کمر درد ایک عام مگر سنجیدہ مسئلہ
آج کے دور میں زیادہ تر لوگ گھنٹوں بیٹھ کر کام کرتے ہیں۔ چاہے دفتر ہو، گھر ہو یا موبائل اور لیپ ٹاپ کا استعمال، مسلسل بیٹھنے کی عادت آہستہ آہستہ کمر درد کا سبب بن جاتی ہے۔ یہ مسئلہ صرف بڑوں ہی نہیں بلکہ نوجوانوں میں بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
جب ہم لمبے وقت تک ایک ہی پوزیشن میں بیٹھتے ہیں تو کمر کے پٹھوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ خون کی روانی کم ہو جاتی ہے اور ریڑھ کی ہڈی پر بوجھ پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدا میں ہلکا درد محسوس ہوتا ہے لیکن اگر نظرانداز کیا جائے تو یہ شدید اور دائمی مسئلہ بن سکتا ہے۔
✅ غلط بیٹھنے کی عادت کمر درد کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
✅ مسلسل موبائل یا لیپ ٹاپ استعمال کرنے سے گردن اور کمر دونوں متاثر ہوتے ہیں۔
✅ ورزش نہ کرنے اور کمزور پٹھے بھی درد کو بڑھاتے ہیں۔
✅ موٹاپا اور ذہنی دباؤ بھی کمر درد کو شدید بنا سکتے ہیں۔
حل کیا ہے؟
✔ ہر 30 سے 40 منٹ بعد اٹھ کر تھوڑی واک کریں۔
✔ سیدھا بیٹھیں، کمر کو سپورٹ دیں اور کرسی آرام دہ استعمال کریں۔
✔ روزانہ ہلکی پھلکی اسٹریچنگ اور ورزش کو معمول بنائیں۔
✔ موبائل کو آنکھوں کی سطح پر رکھیں تاکہ جھکنے سے بچ سکیں۔
یاد رکھیں، چھوٹی چھوٹی احتیاطیں آپ کو بڑے درد اور سرجری سے بچا سکتی ہیں۔ اپنی کمر کا خیال رکھیں کیونکہ صحت مند کمر ہی فعال اور خوشحال زندگی کی ضمانت ہے۔
اگر آپ کو مسلسل کمر درد رہتا ہے تو کسی ماہر سے مشورہ ضرور کریں۔
#BackPain #SittingBackPain #LowerBackPain #OfficePain #PostureCorrection #HealthyPosture #SpineHealth
1 hour ago | [YT] | 137
View 2 replies
Dr Sulman Feroz
کیا ہوگا اگر آپ کو بتایا جائے کہ آپ کی زیادہ تر بیماریاں کسی ایک پوشیدہ سسٹم سے جڑی ہوئی ہیں—اور وہ سسٹم آپ کا اعصابی نظام ہے؟
اعصابی نظام وہ مرکزی کنٹرول روم ہے جو دل کی دھڑکن سے لے کر ہاضمے، مدافعتی طاقت اور ہارمونز تک ہر چیز کو منظم کرتا ہے۔ 
جب انسان مسلسل ذہنی دباؤ میں رہتا ہے تو جسم “فائٹ یا فلائٹ” موڈ میں چلا جاتا ہے۔ اس حالت میں توانائی مرمت اور نشوونما کے بجائے صرف بقا پر خرچ ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سوزش بڑھتی ہے، ہاضمہ متاثر ہوتا ہے، مدافعتی نظام کمزور پڑتا ہے اور ہارمونل توازن بگڑنے لگتا ہے۔
اس کے برعکس جب آپ خود کو محفوظ، پُرسکون اور جذباتی طور پر متوازن محسوس کرتے ہیں تو جسم “ریسٹ اینڈ ڈائجسٹ” حالت میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس وقت ہاضمہ بہتر ہوتا ہے، مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے اور جسم خود کو ٹھیک کرنے کے عمل میں لگ جاتا ہے۔
اسی لیے اصل صحت کا آغاز اعصابی نظام کی ریگولیشن سے ہوتا ہے۔ گہری سانسیں، مناسب نیند، ہلکی جسمانی سرگرمی اور مثبت تعلقات وہ سادہ عادات ہیں جو جسم کو شفا کے موڈ میں لے آتی ہیں۔
جب اعصابی نظام متوازن ہوتا ہے تو جسم خود ہی ٹھیک ہونے لگتا ہے—کیونکہ شفا باہر سے نہیں، اندر سے شروع ہوتی ہے
#NeuroHealth #NervousSystemCare #MindBodyConnection #StressReliefTips #HolisticHealth #ImmuneBoost
4 days ago | [YT] | 2,133
View 21 replies
Dr Sulman Feroz
کیا ہوگا اگر آپ کو بتایا جائے کہ آپ کی زیادہ تر بیماریاں کسی ایک پوشیدہ سسٹم سے جڑی ہوئی ہیں—اور وہ سسٹم آپ کا اعصابی نظام ہے؟
اعصابی نظام وہ مرکزی کنٹرول روم ہے جو دل کی دھڑکن سے لے کر ہاضمے، مدافعتی طاقت اور ہارمونز تک ہر چیز کو منظم کرتا ہے۔ 
جب انسان مسلسل ذہنی دباؤ میں رہتا ہے تو جسم “فائٹ یا فلائٹ” موڈ میں چلا جاتا ہے۔ اس حالت میں توانائی مرمت اور نشوونما کے بجائے صرف بقا پر خرچ ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سوزش بڑھتی ہے، ہاضمہ متاثر ہوتا ہے، مدافعتی نظام کمزور پڑتا ہے اور ہارمونل توازن بگڑنے لگتا ہے۔
اس کے برعکس جب آپ خود کو محفوظ، پُرسکون اور جذباتی طور پر متوازن محسوس کرتے ہیں تو جسم “ریسٹ اینڈ ڈائجسٹ” حالت میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس وقت ہاضمہ بہتر ہوتا ہے، مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے اور جسم خود کو ٹھیک کرنے کے عمل میں لگ جاتا ہے۔
اسی لیے اصل صحت کا آغاز اعصابی نظام کی ریگولیشن سے ہوتا ہے۔ گہری سانسیں، مناسب نیند، ہلکی جسمانی سرگرمی اور مثبت تعلقات وہ سادہ عادات ہیں جو جسم کو شفا کے موڈ میں لے آتی ہیں۔
جب اعصابی نظام متوازن ہوتا ہے تو جسم خود ہی ٹھیک ہونے لگتا ہے—کیونکہ شفا باہر سے نہیں، اندر سے شروع ہوتی ہے
#NeuroHealth #NervousSystemCare #MindBodyConnection #StressReliefTips #HolisticHealth #ImmuneBoost
4 days ago | [YT] | 991
View 9 replies
Dr Sulman Feroz
بھنے ہوئے چنے سادہ غذا، بڑے فائدے
ہم اکثر مہنگی سپر فوڈز کی تلاش میں رہتے ہیں، جبکہ ایک طاقتور اور سستی غذا ہماری روزمرہ زندگی میں پہلے سے موجود ہوتی ہے: بھنے ہوئے چنے۔
بھنے ہوئے چنے نہ صرف ذائقے میں اچھے ہوتے ہیں بلکہ غذائیت سے بھرپور بھی ہوتے ہیں۔ ان میں پروٹین، فائبر، آئرن اور پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں جو جسم کو دیرپا توانائی فراہم کرتے ہیں۔
بھنے ہوئے چنوں کے فوائد
دیر تک پیٹ بھرا رہتا ہے، بار بار بھوک نہیں لگتی
نظامِ ہاضمہ بہتر ہوتا ہے
کمزوری اور تھکن میں کمی آتی ہے
وزن کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے
شوگر لیول کو آہستہ آہستہ بڑھاتے ہیں، اس لیے ذیابیطس میں نسبتاً بہتر انتخاب ہیں
پٹھوں اور جسمانی طاقت کے لیے اچھا ذریعۂ پروٹین ہیں
کھانے کا بہترین وقت
صبح ناشتہ اور دوپہر کے کھانے کے درمیان: توانائی برقرار رکھنے کے لیے
شام کے وقت: جنک فوڈ کے بجائے صحت مند اسنیک کے طور پر
ورزش سے پہلے: ہلکی مقدار میں، جسم کو طاقت دینے کے لیے
رات دیر سے یا بہت زیادہ مقدار میں کھانے سے پرہیز کریں، خاص طور پر اگر معدہ حساس ہو۔
اہم مشورہ
بھنے ہوئے چنوں کو سادہ رکھیں، زیادہ نمک یا تیکھے مصالحے شامل نہ کریں تاکہ فائدہ برقرار رہے۔
یاد رکھیں:
صحت مند غذا ہمیشہ مہنگی نہیں ہوتی، بس درست انتخاب ضروری ہوتا ہے۔
#HealthTips #HealthyLiving #WellnessJourney #HealthyLifestyle #BodyMindSoul #StayHealthy #SelfCare #HealthGoals #DailyHealth #NaturalHealing
6 days ago | [YT] | 1,807
View 14 replies
Dr Sulman Feroz
بیمار ہونے سے پہلے صحت کا خیال کیوں ضروری ہے؟
ہم میں سے اکثر لوگ صحت کی قدر اُس وقت سمجھتے ہیں جب وہ ہاتھ سے نکلنے لگتی ہے۔ جب جسم ساتھ دے رہا ہوتا ہے تو ہم اسے معمولی سمجھتے ہیں، نیند قربان کر دیتے ہیں، غلط کھاتے ہیں، خود کو حد سے زیادہ تھکا دیتے ہیں اور یہ سوچ کر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ “ابھی تو سب ٹھیک ہے”۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ صحت کا بگڑنا ایک دن میں نہیں ہوتا، یہ آہستہ آہستہ ہماری لاپرواہیوں کا نتیجہ بنتا ہے۔
جب انسان بیمار ہوتا ہے تو صرف جسم ہی نہیں ٹوٹتا، حوصلہ بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔ وہی کام جو کبھی آسان لگتے تھے، مشکل ہو جاتے ہیں۔ وہی زندگی جو مصروف مگر خوبصورت تھی، علاج، پرہیز اور فکر میں بدل جاتی ہے۔ تب احساس ہوتا ہے کہ کاش ہم نے وقت پر اپنے جسم کی بات سن لی ہوتی۔
صحت کا خیال رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم بہت سخت روٹین بنا لیں یا خود پر بوجھ ڈالیں۔ اصل بات چھوٹی مگر مسلسل عادتوں کی ہے۔ وقت پر سونا، سادہ کھانا، تھوڑی سی واک، پانی پینا اور خود کو چند لمحے سکون دینا۔ یہ سب چھوٹے قدم مل کر بڑے مسائل سے بچا لیتے ہیں۔
اکثر لوگ کہتے ہیں کہ ابھی وقت نہیں، ابھی مصروف ہیں، بعد میں دیکھیں گے۔ مگر سچ یہ ہے کہ جب صحت نہیں رہتی تو پھر کسی اور چیز کے لیے وقت نہیں بچتا۔ نہ کام، نہ پیسے اور نہ ہی خواب۔ اس وقت انسان صرف ایک ہی خواہش کرتا ہے کہ کاش دوبارہ صحت مند ہو جائے۔
اپنی صحت کا خیال رکھنا خودغرضی نہیں، بلکہ ذمہ داری ہے۔ اپنے لیے بھی اور اُن لوگوں کے لیے بھی جو ہم سے جڑے ہیں۔ ایک صحت مند انسان ہی بہتر طریقے سے زندگی گزار سکتا ہے، دوسروں کے کام آ سکتا ہے اور اپنے خواب پورے کر سکتا ہے۔
اس لیے بیمار ہونے کا انتظار مت کریں۔ آج ہی اپنے جسم کو اہمیت دیں، اس کی سنیں، اس کا خیال رکھیں۔ کیونکہ صحت وہ نعمت ہے جو خاموشی سے ساتھ رہتی ہے، مگر جب رخصت ہوتی ہے تو زندگی کا سارا شور بے معنی ہو جاتا ہے۔
نوٹ: یہ تصاویر صرف آپ کو ورزشیں سمجھانے کے لیے ہیں۔
#LifeAndFitness #HealthyLiving #WellnessJourney #FitLife #MindBodyConnection #LiveWell #FitnessMotivation #LifeGoals #WellnessWarrior #BalanceInLife
6 days ago | [YT] | 1,209
View 5 replies
Dr Sulman Feroz
ہم اپنی روزمرہ کی دوڑ بھاگ میں یہ بھول جاتے ہیں کہ نیند صرف آنکھیں بند کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ وہ وقت ہے جب جسم اور دماغ خود کو مرمت کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے موبائل، دیر سے کھانا، ذہنی دباؤ اور بے ترتیب روٹین ہماری نیند کے قدرتی نظام کو خاموشی سے خراب کر دیتی ہے، اور ہمیں اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ ہم ہر رات ادھورے آرام کے ساتھ جاگ رہے ہیں۔
جب نیند گہری نہ ہو تو جسم کے ہارمونز متوازن نہیں رہتے، دماغ مسلسل تھکا ہوا محسوس کرتا ہے اور یادداشت، توجہ اور جذباتی کنٹرول کمزور پڑنے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیند کی کمی صرف سستی نہیں بلکہ وزن بڑھنے، بلڈ پریشر، شوگر اور ڈپریشن جیسے مسائل کی بنیاد بھی بن سکتی ہے۔
بہتر نیند کے لیے سب سے پہلے قدرتی روٹین بنائیں۔ سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے موبائل اور اسکرین سے دور رہیں، کمرے کی روشنی مدھم رکھیں اور سونے جاگنے کا وقت روز ایک جیسا رکھیں۔ نیم گرم دودھ، ہلکی واک، گہری سانسیں یا ہلکی اسٹریچنگ جسم کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اب آرام کا وقت ہے۔
یاد رکھیں، بہت زیادہ دن میں سونا، کیفین کا زیادہ استعمال اور رات گئے بھاری کھانا بھی نیند کے دشمن ہیں۔ اگر ذہن زیادہ بھرا ہوا ہو تو سونے سے پہلے اپنے خیالات لکھ لینا یا ہلکی تلاوت و ذکر کرنا دماغ کو سکون دیتا ہے۔
قدرتی نیند کسی دوا کی محتاج نہیں، بس درست عادتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
اچھی نیند بہتر دماغ، مضبوط جسم اور متوازن زندگی کی کنجی ہےاسے معمولی نہ سمجھیں۔
#GoodSleep #SleepWell #RestfulNights #SleepTips #HealthySleep #SweetDreams #SleepHygiene #BetterSleep #SleepMatters #DreamBig
1 week ago | [YT] | 781
View 11 replies
Dr Sulman Feroz
صحت سب سے بڑی دولت ہے، اور روزانہ کی چھوٹی عادات اس دولت کو بڑھا یا گھٹا سکتی ہیں
ہم روزمرہ زندگی میں کام، رشتے، ذمہ داریاں اور ذہنی دباؤ میں اتنے مشغول ہو جاتے ہیں کہ اکثر اپنی صحت کو فراموش کر دیتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی سانس لینے میں دشواری ہو، جسم تھک جائے یا چلنا مشکل لگنے لگے، تب یہ احساس شدت سے ہوتا ہے کہ اصل دولت ہمیشہ سے صحت ہی تھی۔
صحت صرف بیماری کی غیر موجودگی نہیں بلکہ وہ صلاحیت ہے جس کے ذریعے ہم اپنی زندگی کو بھرپور توانائی کے ساتھ جیتے ہیں۔ صبح اٹھ کر تازگی محسوس کرنا، بغیر درد کے حرکت کرنا، سانس لینے میں آسانی اور ذہنی سکون کے ساتھ دن گزارنا—یہ سب صحت کی علامات ہیں۔
روزانہ صرف تیس منٹ کی چہل قدمی یعنی واک کے حیرت انگیز فوائد ہیں:
دل کی کارکردگی بہتر بنانا اور خون کی گردش کو بڑھانا
وزن کو کنٹرول میں رکھنا اور موٹاپے کے خطرے کو کم کرنا
جوڑوں اور پٹھوں کو مضبوط بنانا، حرکت میں آسانی پیدا کرنا
ذہنی سکون، تناؤ میں کمی اور دماغی چستی میں اضافہ
نیند کے معیار کو بہتر بنانا اور دن بھر توانائی بخش بنانا
یہ چھوٹی مگر مستقل عادتیں نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت کو بھی مضبوط کرتی ہیں۔ روزانہ کی تیس منٹ کی واک زندگی کے باقی مسائل کو چھوٹا کر دیتی ہے کیونکہ جب صحت ساتھ ہو تو ہر چیز آسان لگتی ہے۔
یاد رکھیں، صحت اتفاق سے نہیں بلکہ روزانہ کے فیصلوں اور عادات کا نتیجہ ہے۔ آج کی چہل قدمی آپ کے کل کو پُرسکون، متحرک اور خوشحال بنا سکتی ہے۔
#WalkBenefits #HealthyLifestyle #DailyWalk #FitnessJourney #MentalHealth #NatureWalks #StayActive #WellnessJourney #WalkingForHealth #MindfulMovement
1 week ago | [YT] | 3,195
View 19 replies
Dr Sulman Feroz
ہم روزمرہ زندگی میں پیسہ، رشتے، ذمہ داریاں اور ذہنی دباؤ کو سب کچھ سمجھ بیٹھتے ہیں، مگر جب گھٹنوں میں درد، اکڑن یا سوجن شروع ہوتی ہے تو سیڑھیاں چڑھنا، بیٹھنا، اُٹھنا اور چند قدم چلنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ اُس لمحے احساس ہوتا ہے کہ جو مسائل کل بڑے لگ رہے تھے، وہ دراصل معمولی تھے، اور اصل دولت ہمیشہ سے جسمانی صحت، خاص طور پر جوڑوں کی صحت، ہی تھی۔
گھٹنے کا آرتھرائٹس صرف بیماری نہیں بلکہ زندگی کے معیار پر اثر ڈالنے والی کیفیت ہے۔ صبح بیدار ہو کر سختی محسوس ہونا، چند منٹ چلنے کے بعد درد کم یا بڑھ جانا، اور معمولی کاموں میں تھکن—یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ جوڑ اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ کام نہیں کر رہے۔
آرتھرائٹس کا تعلق صرف درد سے نہیں بلکہ فنکشنلٹی سے ہے۔ اگر گھٹنے وزن برداشت نہیں کر پا رہے، عضلات کمزور ہو رہے ہیں، اور حرکت محدود ہے تو یہی اصل مسئلہ ہے۔ حقیقی صحت یہ ہے کہ انسان بغیر خوف کے چلے، بیٹھے اور کھڑا ہو سکے۔
آج کے دور میں گھٹنے کے آرتھرائٹس کے اکثر عوامل ہماری عادات اور طرزِ زندگی سے جڑے ہیں۔ ضرورت سے زیادہ وزن، جسمانی کمزوری، غلط بیٹھنا اُٹھنا، اور حرکت کی کمی اس مسئلے کو بڑھا دیتی ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ لائف اسٹائل بہتر بنا کر آرتھرائٹس کو کنٹرول اور کئی صورتوں میں سست کیا جا سکتا ہے۔
روزانہ 30 منٹ ہلکی چہل قدمی، جوڑوں کے مطابق ورزش، ران اور کولہوں کی مضبوطی، معیاری نیند اور صبر و شکر کی عادت نہ صرف گھٹنوں بلکہ پورے جسم کو سہارا دیتی ہے۔ یہ عادتیں بظاہر سادہ لگتی ہیں، مگر اثر کے اعتبار سے انتہائی طاقتور ہیں۔
آخر میں یاد رکھیں، گھٹنوں کی صحت اتفاق نہیں بلکہ روزانہ کیے جانے والے فیصلوں کا نتیجہ ہے۔ آج سے عادات بدلیں، کل زیادہ متحرک، باوقار اور درد سے آزاد ہو سکتا ہے کیونکہ جب گھٹنے ساتھ دیں تو زندگی آسان ہو جاتی ہے۔
#KneeArthritis #JointHealth #ArthritisRelief #KneePain #HealthyJoints #PainFreeLife #arthritisawareness
1 week ago | [YT] | 1,265
View 8 replies
Dr Sulman Feroz
ابھی لاہور میں بسنـت ہو رہی ہےلطف اُٹھائیں، مگر میئر اور انتظامیہ کی ہدایات کے مطابق مکمل حفاظتی تدابیر کے ساتھ۔
#Basant
#BasantLahore
#LahoreBasant
#LahoreLife
#cityofgardens
#kitefestival
#kiteflying
1 week ago | [YT] | 1,005
View 35 replies
Dr Sulman Feroz
اگر کمر میں درد ہو تو اکثر لوگ اسے وزن، عمر یا زیادہ کام کا نتیجہ سمجھ لیتے ہیں—
مگر کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ آپ چیزیں اٹھاتے وقت کیسے جھکتے ہیں؟
روزمرہ زندگی میں جھک کر چیز اٹھانا ایک معمولی حرکت لگتی ہے،
مگر یہی حرکت اگر غلط انداز میں کی جائے تو کمر کے لیے خاموش نقصان بن جاتی ہے۔
فرش سے کوئی چیز اٹھانا ہو، بچوں کو گود میں لینا ہو یا کوئی وزن دار بیگ—
ہم اکثر بغیر سوچے کمر کو موڑ کر جھک جاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ کمر اس کام کے لیے بنی ہی نہیں۔
📚 سائنسی طور پر کیا ہوتا ہے؟
جب آپ سیدھی ٹانگوں کے ساتھ کمر سے جھکتے ہیں تو:
کمر کے نچلے حصے (Lumbar spine) پر دباؤ کئی گنا بڑھ جاتا ہے
ڈسکس پر غیر ضروری stress پڑتا ہے
وقت کے ساتھ muscle strain، slip disc اور دائمی کمر درد کا خطرہ بڑھ جاتا ہے
یعنی درد ایک دن میں نہیں،
بلکہ روز کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں سے بنتا ہے۔
البتہ یہ سمجھ لینا کہ ہر بار جھکنا نقصان دہ ہے—یہ بھی مکمل سچ نہیں۔
مسئلہ جھکنا نہیں، غلط طریقے سے جھکنا ہے۔
اصل فرق تب پڑتا ہے جب آپ صحیح طریقہ اپناتے ہیں:
کمر سیدھی رکھیں
گھٹنوں کو موڑیں
وزن ٹانگوں پر ڈالیں، کمر پر نہیں
چیز کو جسم کے قریب رکھ کر اٹھائیں
یہی وجہ ہے کہ فزیوتھراپی میں ہمیشہ “bend with knees, not with back” پر زور دیا جاتا ہے۔
کچھ لوگ کہتے ہیں:
“ہم تو برسوں سے ایسے ہی اٹھاتے آ رہے ہیں، کچھ نہیں ہوا”
لیکن یاد رکھیں—
جسم شکایت تب کرتا ہے جب نقصان حد سے بڑھ جاتا ہے۔
نتیجہ:
جھک کر چیز اٹھانا خود مسئلہ نہیں،
مسئلہ وہ عادت ہے جو آہستہ آہستہ آپ کی کمر کو کمزور کرتی ہے۔
اگر آپ اپنی کمر کو لمبے عرصے تک محفوظ رکھنا چاہتے ہیں،
تو چھوٹی حرکات کو بھی سمجھداری سے کرنا سیکھیں۔
کمر کا درد علاج سے نہیں،
اکثر صحیح طریقے سے بچایا جا سکتا ہے۔
#BackPain #LowerBackPain #ChronicPain #BodyPain
1 week ago | [YT] | 1,668
View 7 replies
Load more